بچوں کی ذہنیت کے مطابق جدید طرز اپنانے کا مشورہ

ڈبلیو راجندر، فوزیہ چودھری، نسیم الدین فریس اور دیگر کا سمینار سے خطاب
مدنپلی / تروپتی /22 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کسی بھی ادب میں جو اہمیت بچوں کو حاصل ہے، وہ شاید ہی بڑوں کو حاصل ہوگی، کیونکہ آج کے بچے کل کے شہری ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سری وینکٹیشورا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈبلیو راجندر نے دو روزہ قومی سمینار ’’اردو میں بچوں کا ادب: مسائل اور امکانات‘‘ کے افتتاحی جلسہ میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ سمینار کا موضوع دور حاضر کے لئے اہمیت کا حامل ہے، لہذا اس طرح کا سمینار دیگر زبانوں کے علاوہ سائنس اور ریاضیات میں بھی منعقد کرنا چاہئے۔ اردو اکیڈمی کرناٹک کی چیرپرسن ڈاکٹر فوزیہ چودھری نے کہا کہ ادب اطفال اصل میں ملک کی تہذیب و ثقافت ہے۔ انھوں نے ماہرین لسانیات کے اس قول کو دہرایا کہ ’’ایک دہے کے اندر دنیا کی ایک تہائی زبانیں ختم ہو جائیں گی‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تعلیمی میدان سے زبانوں کو ختم کردیا جائے گا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو اردو تعلیم دلوائیں اور صاحب استطاعت افراد اردو ذریعہ تعلیم کے بچوں کی معاشی طورپر مدد کریں۔ یونیورسٹی کے وائس پرنسپل ڈاکٹر منی رتنم نے بتایا کہ یونیورسٹی میں چھ شعبے زبانوں سے متعلق ہیں، لیکن شعبہ اردو نے پہلی مرتبہ ادب اطفال پر سمینار منعقد کرکے دوسروں کو راہ دکھائی ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر قاسم علی خاں نے اسکولی نصاب تیار کرنے والوں کے بارے میں بتایا کہ اکثر لوگوں کا تعلق ادب اطفال سے نہیں ہوتا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ نصابی کمیٹی میں ایک ماہر نفسیات اور ایک ماہر لسانیات کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ غلطیوں کا ازالہ ہوسکے۔ سابق چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی امجد حسین حافظ کرناٹکی جو ادب اطفال کے ماہرین میں شمار کئے جاتے ہیں، نے کلیدی خطبہ کی شروعات بچوں کی اہمیت کے اشعار سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ادب اطفال بنیاد ہے مستقبل کے ادب کی اور آج کے بچے بڑوں سے زیادہ ہوشیار ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بچوں کے ادیب و شعراء کو مشورہ دیا کہ قدیم طرز کو خیرباد کہہ دیں اور جدید طرز کو اپنائیں، جو کہ بچوں کی ذہنیت کے مطابق ہو۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کے ادب کو ایک دو صنف پر محدود نہ کریں، بلکہ متعدد اصناف لکھیں اور ان کی ہمت افزائی کے لئے ایوارڈ سے نوازا جائے۔ انھوں نے اسماعیل میرٹھی، حالی، شبلی، اقبال، حفیظ جالندھری اور عادل اسیر دہلوی کے کارناموں کا تذکرہ کیا۔ آخر میں بیت بازی کے اشعار پیش کرتے ہوئے ہر یونیورسٹی کو سال میں ایک مرتبہ بچوں کے ادب پر سمینار منعقد کرنے کی ترغیب دی۔ سمینار کے پہلے اجلاس کی ابتدا ڈاکٹر وصی اللہ بختیاری نے ’’بچوں کا ادب: تعریف اور تجزیہ‘‘ کے عنوان پر شفیع الدین نیر، ٹیگور اور دیگر ماہرین کی تعریف کی اور مختلف اقتباسات پیش کئے۔ انھوں نے بچوں کے ادب سے متعلق کہا کہ ان کے موضوعات میں تنوع اور رنگارنگی ہونی چاہئے۔ پروفیسر نسیم الدین فریس نے ’’اردو میں بچوں کا ادب، امیر خسرو تا مرزا غالب‘‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے امیر خسرو کو بچوں کا پہلا شاعر قرار دیا۔ انھوں نے پہیلیاں، کہہ مکرنیا اور خالق باری کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں کے ادب کی وضاحت کی۔ قطب شاہی، عادل شاہی، کتب خانہ آصفیہ، کتب خانہ سالار جنگ اور کتب خانہ ادارہ ادبیات اردو میں موجود مخطوطات اور رسائل کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے ’’بچوں کا ادب: موجودہ صورت حال‘‘ کے عنوان پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور بچوں کے ادب کے لئے زرخیز ہے۔ انھوں نے حافظ کرناٹکی، فوزیہ چودھری، ڈاکٹر نثار احمد کی بچوں کے ادب کی کاوشوں کی ستائش کی۔ انھوں نے اپنے مقالے میں اردو ادب سے ہٹ کر سائنس و ٹکنالوجی کا بھی ذکر کیا۔ آخر میں صدر اجلاس پروفیسر محمد انور الدین نے صدارتی کلمات پیش کئے۔ قبل ازیں جلسہ کا آغاز عبد القیوم اور اقبال کی دعا سے ہوا۔