بودھن /15 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام دور حکومت میں بودھن ریلوے اسٹیشن کے قریب 77 سال قبل بودھن کا عثمانیہ جوبلی گیسٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا تھا، جس کا سنگ بنیاد جناب اکبر نواب حیدر نواز جنگ بہادر نے رکھا تھا اور ایک سال میں اس گیسٹ ہاؤس کی تعمیر مکمل ہو گئی تھی۔ اس گیسٹ ہاؤس کو حاکموں اور عہدہ داروں کے دورہ بودھن کے موقع پر استعمال کیا جاتا تھا، جہاں قیام کرتے ہوئے عہدہ دار نظام شوگر فیکٹری اور نظام ساگر کے نہروں کے تعمیری کاموں کی نگرانی کرتے تھے۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد بودھن کو بلدیہ کا درجہ حاصل ہونے کے بعد اس عمارت میں دفتر بلدیہ کا قیام عمل میں آیا، لیکن 1988ء میں بلدیہ بودھن کی نئی عمارت کی تعمیر کے بعد دفتر بلدیہ اپنی نئی عمارت میں منتقل ہو گیا اور اس کے بعد گیسٹ ہاؤس کی اراضی پر ناجائز قبضوں کا آغاز ہو گیا، جب کہ بلدی کونسل نے عثمانیہ گیسٹ ہاؤس کی فاضل اراضی دفاتر اور لائنس ای ہاسپٹل کو الاٹ کردی تھی۔ نظام دور حکومت کا یہ گیسٹ ہاؤس ماضی کی ایک یادگار بن کر رہ گیا اور اب اپنی ٹوٹی پھوٹی درودیوار کے ذریعہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ حلقہ اسمبلی بودھن سے تین مسلم قائدین چار میعادوں تک ریاستی قانون ساز کونسل میں نمائندگی کرچکے ہیں اور تین مرتبہ بودھن کے عوام نے مسلم قائدین کو صدر نشین بلدیہ بودھن بھی منتخب کیا، لیکن کسی نے بھی اس جوبلی گیسٹ ہاؤس کی رونق بحال کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ موجودہ کونسل میں تقریباً نصف تعداد مسلم ارکان بلدیہ کی ہے، اگر وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر اور متحد ہوکر اس گیسٹ ہاؤس کی بحالی میں اپنی دلچسپی دکھائیں تو یقیناً مقامی رکن اسمبلی جناب عامر شکیل بھی اپنا تعاون پیش کریں گے۔