بودھن میں چیرمین بلدیہ کے عہدہ کیلئے سیاسی جوڑ توڑ

کانگریس کو 3ارکان کی ضرورت، ٹی آر ایس اور مجلس کے اتحاد کا بھی امکان
بودھن۔/8جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بلدی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوئے تقریباً چار ہفتے گذر گئے لیکن ابھی تک ارکان بلدیہ کی حلف برداری کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔ ویسے تو رائے دہی ہوئے تقریباً دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوا۔30مارچ کو رائے دہی ہوئی اور رائے شماری 12مئی کو ہوئی اور اسی روز نتائج کا اعلان بھی ہوگیا۔ مجلس بلدیہ بودھن کی 35بلدی نشستوں پر جماعت واری موقف اس طرح ہے: کانگریس پارٹی کے 15، ٹی آر ایس کے 9، مجلس کے 7، بی جے پی کے 3اور ایک ٹی ڈی پی امیدوار منتخب ہوا ہے۔ اب کی بار ایک بھی آزاد امیدوار منتخب نہیں ہوا۔ کانگریس اور ٹی آر ایس پارٹی کے صدرنشین بلدیہ کی نشست کے دعویداروں کو جیت تو حاصل ہوئی لیکن ان کی جماعتوں کو کونسل میں واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے چیرمین کے انتخاب کا مرحلہ دشوار کن ہوگیاہے جس کی بھی سیاسی جماعت کے چیرمین کی نشست کے دعویدار کو 18ارکان بلدیہ کی تائید حاصل ہوگی وہ چیرمین کی نشست کا حقدار ہوگا۔ اب یہاں سیاسی جوڑ توڑ میں سبقت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت ہی کا دفتر بلدیہ بودھن پرقبضہ ہوگا۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتہ میں چیرمین کی نشست کیلئے نوٹفیکیشن کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ اس سے پہلے ارکان بلدیہ کی حلف برداری ہوگی۔ بظاہر کانگریس پارٹی کو صرف تین ارکان بلدیہ کی تائید کی ضرورت ہے اگر وہ اپنی سابقہ حلیف سیاسی جماعت مجلس کے ارکان کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تو اس کے لئے چیرمین کی نشست پر قبضہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ لیکن حالیہ سیاسی تناظر سے یہ واضح ہورہا ہے کہ ٹی آر ایس اور مجلس ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پھر یہاں ٹی آر ایس کے چیرمین کی نشست کے امیدوار کو مجلس پارٹی کے 7ارکان کی تائید حاصل ہونا آسان ہوجائے گا۔ اس کے باوجود بھی ٹی آر ایس کو 35ارکان بلدیہ کی کونسل میں واضح اکثریت حاصل کرنے مزید دو ارکان کی کمی رہے گی ۔اگر ٹی ڈی پی کے واحد امیدوار کا ووٹ ٹی آر ایس حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تو پھر ایم ایل اے بودھن کے ووٹ سے ٹی آر ایس کو جملہ 18ارکان کی تائید حاصل ہوجائے گی۔ دونوں جانب مساوی18-18 ارکان ہونے کی وجہ سے مقابلہ برابری کا ہوگا ۔ اگر ان دونوں سیاسی جماعتوں ٹی آر ایس، کانگریس میں سے کسی ایک نے بھی حزب مخالف کا ایک ووٹ حاصل کرلیا تو چیرمین کی نشست اسی سیاسی جماعت کے امیدوار کو حاصل ہوگی۔ چیرمین کی نشست پر قبضہ کرنے سیاسی جماعتیں دوسرے پہلو پر بھی غور کررہی ہیں، وہ یہ کہ انتخابات سے قبل منتخب ارکان کے حلف ناموں کی جانچ کی جائے جس میں ذات پات یا 1995ء کے بعد دو سے زائد ارکان بلدیہ کے حلف ناموں کے خلاف عدالت سے رجوع ہوکر مشتبہ ارکان بلدیہ کو ووٹ کے حق سے محروم کرکے چیرمین کی نشست پر قبضہ کرنے کے تعلق سے بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔