ڈھاکہ ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء جو اس وقت جیل میں ہیں، اس وقت تشویشناک حد تک علیل ہیں اور خود سے چلنے پھرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعت بی این پی کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ ان پر الزام ہیکہ انہوں نے ضیاء آرفینج ٹرسٹ کیلئے دیئے گئے 21 ملین ٹکا (بنگلہ دیشی کرنسی) کی رقم میں خردبرد کی جو ان کے مرحوم شوہر ضیاء الرحمن سے معنون تھا جو خود بنگلہ دیش کے سابق فوجی حکمراں رہ چکے ہیں۔ خالدہ ضیاء کو فروری میں پانچ سال کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔ قبل ازیں ان کے ارکان خاندان جب جب ان سے جیل میں ملاقات کیلئے آتے تھے تو وہ ان کی طرف خود چل کر آتی تھیں لیکن اب ان کا مزاج تشویشناک حد تک خراب ہے جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ بی این پی کے سکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے یہ بات بتائی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ خالدہ ضیاء کو ان کی (خالدہ) مرضی کے مطابق علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 72 سالہ سابق وزیراعظم اتنی کمزور ہوگئی ہیں کہ وہ اب چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ گذشتہ چار ماہ سے وہ ڈھاکہ کی 200 سالہ قدیم جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں۔