بنگلہ دیش میں حکمراں پارٹی کے سابق لیڈر کو سزائے موت

ڈھاکہ ۔ 24 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کی حکمراں عوامی لیگ پارٹی کے برطرف لیڈر مبارک حسین کو آج اسپیشل ٹریبونل نے جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی ۔ اُن پر پاکستان کے خلاف 1971 ء کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب اور 33 عام شہریوں کے قتل کا الزام تھا ۔ جسٹس ایم عنایت الرحیم کی زیر قیادت بین الاقوامی جرائم ٹریبونل II کے ججس کے تین رکنی پیانل نے یہ حکم دیا کہ ’مبارک حسین کو اُن کی موت واقع ہونے تک پھانسی پر لٹکادیا جائے ‘۔ ٹریبونل نے کہا کہ سابق عسکری کمانڈر کے خلاف 5 الزامات کے منجملہ 2 میں وہ مجرم ثابت ہوئے ہیں۔ 64 سالہ مبارک حسین کو جو سفید لباس میں تھے ، 33 عام شہریوں کی اُن کے آبائی ضلع میں ہلاکت کیلئے یہ سزا سنائی گئی ۔ یہ واقعہ سنٹرل برہمن باریہ ضلع میں 22 اگست 1971 کو پیش آیا تھا ۔ مبارک حسین کو ہلاکتوں کے ایک اور الزام میں سزائے عمرقید سنائی گئی جبکہ استغاثہ نے اُن کے خلاف قتل ، اغواء ، حبس بیجا ، اذیت اور مکانات میں قیمتی اشیاء لوٹ کے الزامات عائد کئے تھے ۔ وہ رضاکار کی مقامی یونٹ کے کمانڈر تھے ۔ یہ خطرناک عسکری طاقت تھی جو بنگالی زبان بولنے والوں پر مشتمل تھی اور اسے پاکستانیوں نے 1971 ء میں اضافی فوج کے طورپر تشکیل دیا تھا ۔ مبارک حسین جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے جو بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالف تھی ۔ پاکستان کو شکست کے بعد وہ عوامی لیگ میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئے جس نے جنگ آزادی کی قیادت کی تھی ۔ تاحال مبارک حسین واحد عوامی لیگ رہنما ہیں جنھیں جنگی جرائم کیلئے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی نے انھیں دو سال قبل اُس وقت برطرف کردیا تھا جب 1971 ء میں اُن کا رول منظرعام پر آیا ۔ مبارک حسین کو سزائے موت سنائے جانے پر آج موافق جمہوریت گنا جاگرن منچا کے حامیوں نے شاہ باغ میں جشن منایا ۔ آج یہ فیصلہ اُس وقت سنایا گیا جبکہ دو ہفتہ قبل اسی ٹریبونل نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے زائد حسین خوخو کو 1971 انسانیت کے خلاف جرائم کیلئے سزائے موت سنائی ۔ وہ مقامی جماعت کے 1971 ء میں لیڈر رہ چکے تھے اور بعد ازاں انھوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے 10 افراد کو سزائے موت اور 2 دیگر کو سزائے عمر قید تادم موت سنائی گئی ہے ۔ وزیراعظم شیخ حسینہ کی سیکولر حکومت نے 2010 ء میں دو خصوصی ٹریبونل قائم کئے ہیں۔ اب تک جنھیں سزائے موت سنائی گئی ہے اُن میں جماعت اسلامی کے جوائنٹ سکریٹری جنرل عبدالقادر ملا کو پھانسی دی جاچکی ہے ۔