اپوزیشن حامی بنگلہ دیش کے انسانی حقوق کارکن پر فوج کی جانب سے غداری کا الزام
ڈھاکہ ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیشی اخبارات کے ایڈیٹرس نے ایک انسانی زنجیر ڈھاکہ کے وسطی علاقہ میں بنائی تاکہ نئی ڈیجیٹل صیانتی قانون کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دستوری طور پر تحفظ یافتہ آزادی تقریر کی خلاف ورزی ہوگی اور صحافت کی آزادی محدود کردی جائے گی۔ صدر بنگلہ دیش عبدالحامد نے ڈیجیٹل صیانت قانون کی 8 اکٹوبر کو وسیع پیمانے پر صحافیوں اور انسانی حقوق گروپس کے احتجاج کے دوران منظوری دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ارکان عملہ نے خاص طور پر اس دفعہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے تحت حکومت خفیہ طور پر برقی آلات استعمال کرتے ہوئے معلومات حاصل کرسکتی ہے اور انہیں جرم قرار دے سکتی ہے جس کی اعظم ترین سزاء 14سال سزائے قید ہوگی۔ عمر قید کی سزاء اور 5 کروڑ تک کا جرمانہ دوسری بار جرم کے مرتکبین پر کیا جائے گا۔ محکمہ ڈاک، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مصطفی جبار نے مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے اس کا انکشاف کیا۔ میڈیکلس کونسل کے جنرل سکریٹری محفوظ انام نے کہا کہ یہ قانون آزاد صحافت اور ذرائع ابلاغ کے خلاف ہے۔ ایڈیٹرس کونسل ڈیجیٹل صیانتی قانون کے خلاف نہیں ہے لیکن اس میں ترمیم کا مطالبہ کررہی ہے کیونکہ اس قانون کی بعض دفعات صحافت کے خلاف ہیں۔ روزنامہ ڈیلی اسٹار کے مدیر نے اس کا انکشاف کیا۔ احتجاجی ایڈیٹرس نے کہا کہ وہ قانون میں ترمیم کے بارے میں کھلا ذہن رکھتے ہیں بشرطیکہ بامعنی تبادلہ خیال کیا جائے ۔ اعلیٰ سطحی ایڈیٹرس اور جرنلسٹ نے آخری معمولی اجلاس مذکورہ وزیر کے ساتھ منعقد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قانون سازی کے 9 ابواب تبدیل کردیئے جائیں۔ وزیرقانون نے تیقن دیا ہیکہ وہ ان مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم صدر بنگلہ دیش نے قانون کی منظوری دیتے ہوئے اسے مسودہ قانون سے قانون میں تبدیل کردیا۔ ایڈیٹرس نے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ پارلیمانی اجلاس میں مجوزہ تبدیلیاں کی جائیں تاہم حکومت نے کہا کہ غلط اطلاعات کے انسداد کیلئے اس قانون کی ضرورت ہے۔ حکومت نے کہا کہ صحافیوں کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے کہا کہ کسی کو بھی قانون کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں جب تک کہ وہ مجرمانہ ذہنیت کا حامل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا مقصد ڈیجیٹل پٹیل فام کے استحصال کا انسداد ہے۔ دریں اثناء پولیس کو حکم دیا گیا ہیکہ ایک صف اول کے اپوزیشن حامی انسانی حقوق کارکن پر فوج کی جانب سے غداری کے الزام کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ تبصرہ کیا گیا ہیکہ یہ الزام مفادات حاصل پر مبنی اور بالکل بے بنیاد ہے۔