اربل ( عراق ) 14 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کی فوج نے آج ادعا کیا کہ اس نے تخریب کار گروپس کے خلاف لڑائی میں اہم شمالی علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کرلیا ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ مستحکم ہے اور وہ ریاڈیکلس کے خلاف ہر طرح کا مقابلہ کرنے کے اہل ہیں ۔
یہ ریاڈیکلس اچانک ہی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے اپنی کارروائیاں شروع کرچکے ہیں۔ ایک فوجی ترجمان نے یہ بات بتائی ۔ میجر جنرل قاسم عطا نے کہا کہ صوبہ صلاح الدین کے بیشتر علاقہ کو عراق کی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے صوبہ نینوا کے پہاڑی علاقوں کو بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے ۔ تاہم اس ادعا کو خود بغداد میں سکیوریٹی عہدیداروں کی تائید حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ بغداد میں سکیوریٹی اہلکاروں نے بتایا کہ صوبہ صلاح الدین کا 60 تا 70 فیصد علاقہ ہنوز عسکری گروپس کے قبضہ میں ہے ۔ یہ عسکریت پسند اسلامی مملکت عراق و شام ( آئی ایس آئی ایس ) سے تعلق رکھتے ہیں ۔
کہا گیا ہے کہ اس گروپ نے بائیجی ٹاؤن میں آئیل ریفائنری پر بھی قبضہ کرلیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ عراقی سپاہیوں کی جانب سے اب بغداد کے دفاع کو مستحکم کرنے کیلئے عملی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ مسلح سپاہی بغداد کے 25 کیلو میٹر شمال میں اپنے ٹھکانے سنبھال رہے ہیں تو کچھ مقامات پر نئے چیک پوائنٹس بھی قائم کردئے گئے ہیں۔ گذشتہ پیر کو حملے شروع کرتے ہوئے تخریب کاروں کے گروپ نے شمالی اور شمال وسطی عراق کے بڑے علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا ۔ اب یہ باغی بغداد کے 100 میٹر کے قریب تک پہونچ چکے ہیں جس سے شہر کے مکینوں میں اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ اب اس شہر کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ عسکریت پسندوں کو سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے مزید شمال تک پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے اور موجودہ حالات میں بغداد پر فوری حملہ کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ تخریب کاروں کے ایک ترجمان ابو محمد العدنانی نے واضح کیا کہ ان کے لڑاکے بغداد اور کربلا کی سمت پیشرفت کرینگے ۔ کربلا بغداد کے جنوب مغرب میں واقع ایک مقدس ترین شہر ہے ۔ شیعہ رہنما آیت اللہ علی السیستانی نے کل عراقیوں سے کہا تھا کہ وہ تخریب کاروں کے گروپس کے خلاف ہتھیار اٹھالیں۔ ان کی اپیل کے بعد سینکڑوں عراقی باشندے رضاکارانہ طور پر مقابلہ کیلئے آگے آئے ہیں۔
اس دوران امریکہ نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش خلیج فارس میں روانیہ کردیا ہے ۔ یہ جہاز شمالی بحیرہ عرب میں تھا ۔ امریکی ڈیفنس سکریٹری چک ہیگل نے اس جہاز کو خلیج فارس رونہ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ پنٹگان کے پریس سکریٹری رئیر اڈمیرل جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ اس جہاز کی منتقلی سے صدر بارک اوباما میں کسی فوجی امکان پر غور کرنے کیلئے لچکدار امکان دستیاب ہوسکتا ہے تاکہ امریکی شہریوں اور مفادات کا تحفظ ہوسکے ۔ قاسم عطا نے واضح کیا کہ عراقی افواج رضارکار لڑاکوں کے ساتھ شمال میں کئی شہریوں پر اپنا قبضہ بحال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں افواہوں کو پھیلانے کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی کیونکہ دہشت گردوں کی جانب سے سپاہیوں اور عام شہریوں کی حوصلہ شکنی کیلئے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغداد بالکل محفوظ ہے ۔ بغداد میں سکیوریٹی صورتحال بالکل مستحکم ہے ۔ سمارا میں بھی صورتحال مستحکم ہے اور سرکاری افواج وہاں دہشت گردوں کے کسی بھی طرح کے منصوبوں سے نمٹنے پوری طرح تیار ہیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی نے کل ایک سکیوریٹی اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ سمارا ‘ سرکاری افواج کیلئے ابتدائی پوائنٹ ہوسکتا ہے اور یہاں سے آگے بڑھتے ہوئے ان سارے علاقوں کو قبضہ سے پاک کیا جاسکتا ہے
جن پر عسکریت پسندوں نے قبضہ جمالیا ہے ۔ ان کے ان ریمارکس کو آج پہلی مرتبہ براڈ کاسٹ کیا گیا ہے ۔ نوری المالکی نے کہا کہ ملک کی کابینہ نے انہیں تخریب کاروں سے نمٹنے کیلئے بے شمار اختیارات تفویض کئے ہیں۔ امریکہ میں صدر بارک اوباما عراق کی صورتحال پر پوری طرح سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم امریکہ نے وہاں باغیوں سے مقابلہ کیلئے اپنی زمینی افواج کی روانگی کا امکان مسترد کردیا ہے ۔ بغداد میں بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران نے عراقی سکیوریٹی فورسیس کے ساتھ مل کر دیالہ صوبہ میں مقابلہ کیلئے اپنے 500 انقلابی گارڈز روانہ کئے ہیں۔ اے رانی عہدیداروں بشمول صدر حسن روحانی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے ۔ اس دوران ایران کے صدر حسن روحانی نے آج کہا کہ اگر عراق چاہے تو ان کا ملک شمال میں باغیوں سے مقابلہ کیلئے عراق کی مدد کرنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو ایران اس کی بھی مدد کرسکتا ہے ۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ عراق اگر مدد کی کوئی بھی خواہش کرتا ہے تو ایران اس کا جائزہ لے گا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس دہشت گردی سے مقابلہ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عراق نے ابھی تک کسی طرح کی مدد کی درخواست نہیں کی ہے لیکن اگر ایسا کیا گیا تو ہم بین الاقوامی قانون کے دائرہ میں اس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج ابھی تک عراق میں داخل نہیں ہوئی ہیں۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگی ۔ حسن روحانی نے کہا کہ ان کا ملک عراق میں امریکہ کی بھی مدد کرنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ کی جانب سے باغیوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائیگی تو اس سے بھی تعاون پر غور کیا جاسکتا ہے ۔