بزنس حامی اور غریب حامی میں کوئی تضاد نہیں : جیٹلی

نئی دہلی۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج فیس بُک پر ایک نیا نعرہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’غریب حامی اور بزنس حامی‘‘ متضاد الفاظ نہیں ہیں۔ جب تک حکومت کو مالیہ حاصل نہ ہو، وہ انفراسٹرکچر اور خدمات کی فلاحی اسکیمیں برائے غرباء تیار نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کا وجود ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ انہوں نے بجٹ 2014-15ء پر پارلیمنٹ میں جولائی میں مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت غریب حامی اور بزنس حامی دونوں کو ٹیکس کے نظام میں یکساں قرار دیتی ہے۔ شرحیں مختلف ہوتی ہیں ، سبسڈی نظام کی معقولیت انفراسٹرکچر اور امکنہ کی تعمیر مختلف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس حامی ہونے کا لازمی مطلب یہ ہے کہ مزید مالیہ حاصل کیا جائے اور اخراجات میں اضافہ کیا جائے جس سے غریبوں کو فائدہ حاصل ہو اور سماجی شعبہ کے پروگراموں کے ذریعہ نظرانداز طبقات کو فائدہ حاصل ہو۔انہوں نے پائیدار ترقی اور کچھ بحالی کی علامات کیلئے بجٹ کی گنجائشوں کے علاوہ سلسلہ وار اقدامات کا تیقن دیا۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ بزنس حامی اور غریب حامی متضاد اصطلاحات نہیں ہیں ۔ حکومت کو معیشت کے استحکام کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ معاشی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کیلئے کم ٹیکسیس ترجیح دیتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں کہہ چکے تھے کہ اگر مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے تو عوام باہر کی مصنوعات خریدیں گے۔ کمتر ٹیکس ہمیشہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرتا ہے۔