برکس بینک کے قیام کا چدمبرم کی جانب سے خیرمقدم

نئی دہلی۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے برکس بینک کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یو پی اے حکومت کی جانب سے گزشتہ سال جس کام کی پہل کی گئی تھی، آج برازیل میں اس کا نتیجہ دیکھا جارہا ہے۔ چدمبرم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ یو پی اے حکومت نے جس کام کا آغاز جنوبی آفریقہ میں منعقدہ برکس چوٹی کانفرنس میں کیا تھا، اس کے نتیجہ میں ایک نئے ترقیاتی بینک کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ وزیر فینانس برکس ممالک اس نظریہ پر مختلف چوٹی کانفرنسوں کے دوران علیحدہ ملاقاتوں میں غوروخوض کرچکے ہیں، جیسا کہ فنڈ بینک اور G-20 چوٹی کانفرنس کے دوران کل برکس کے رکن ممالک برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ نے اتفاق کیا ہے کہ رکن ممالک کی اور ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں مدد دینے کیلئے 100 ارب امریکی ڈالرس مالیہ کے ساتھ ایک بینک قائم کیا جائے۔ چدمبرم نے کہا کہ انہیں خاص طور پر اس بات کی خوشی ہے کہ تمام دیرینہ مسائل کی باہمی طور پر اطمینان بخش انداز میں یکسوئی ہوچکی ہے۔ تمام پانچ ممالک سرمایہ میں مساوی حصہ ادا کریں گے چنانچہ بینک میں ہر رکن ملک کی مساوی اہمیت ہوگی اور بینک کے بانی ارکان کی حیثیت سے انہیں رائے دہی کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ اس بینک کا ہیڈکوارٹرس شنگھائی میں ہے اور ہندوستان اس بینک کا پہلا صدرنشین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں برکس ممالک کی حکومتوں کو اور اعلیٰ مذاکرات کاروں کو اس کامیاب سودے بازی کی بہترین اختتام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ برکس بینک ایک نتیجہ ہے جس پر ہر ہندوستانی فخر ہوگا۔ امریکی کوششوں سے روس کو G-8 گروپ سے خارج کرنے کے بعد G-8 گروپ G-7 اور یک قطبی گروپ بن چکا ہے۔ اس وجہ سے برکس تنظیم کی جس کے بانی ارکان میں روس بھی شامل ہے، اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے، کیونکہ یہ تنظیم کسی ایک سیاسی اثرورسوخ کے تحت نہیں ہے۔