نئی دہلی۔17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیلوں میں سات گولڈ سمیت 16 میڈل جیتنے والے ہندستانی نشانے بازوں کی انڈین نیشنل رائفل اسوسی ایشن ( این آر اے آئی ) نے کہا ہے کہ اگر شوٹنگ کو دولت مشترکہ کھیلوں میں بحال نہیں کیا جاتا ہے تو ہندوستان کو 2022 کے برمنگھم دولت مشترکہ کھیلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے ۔این آر اے آئی کے صدر رن اندر سنگھ نے گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیلوں کے میڈلسٹ ہندستانی نشانے بازوں کے لئے منعقد استقبالیہ تقریب میں سخت الفاظ میں کہاکہ میں وزیر کھیل رجیہ وردھن سنگھ راٹھور اور ہندستانی اولمپک اسوسی ایشن (آئی اواے ) کو ایک دو دن میں خط لکھنے جا رہا ہوں کہ اگر اگلے کھیلوں میں شوٹنگ کی واپسی نہیں ہوتی ہے تو ہندستان کو پورے برمنگھم کھیلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے ۔نشانے بازی کو2022 میں ہونے والے برمنگھم دولت مشترکہ کھیلوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیلوں میں آخری مرتبہ شوٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ ہندستانی نشانے بازوں نے گولڈ کوسٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات گولڈ، چار سلور اور پانچ برونز سمیت سب سے زیادہ 16 میڈلس جیتے ۔رن اندر نے کہاکہ ہم اپنی طرف سے شوٹنگ کی دولت مشترکہ کھیلوں میں بحالی کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔میں خود بھی دولت مشترکہ کھیل فیڈریشن (سي جي ایف) کے صدر مارٹن لوئیس سے ذاتی رابطے میں ہوں۔اس مسئلے پر مسلسل بات چیت چل رہی ہے ۔ہم نے ایشیائی اولمپک کونسل (او سی اے ) سے بھی اس معاملے کو سي جي ایف میں اٹھانے کو کہا ہے ۔این آر اے آئی کے صدر نے کہاکہ بین الاقوامی شوٹنگ فیڈریشن (آئی ایس ایس ایف ) کی سي جي ایف کے ساتھ اس ضمن میں تین اجلاس ہوچکے ہیں جس میں مارٹن اور اگلے کھیلوں کے انعقاد کمیٹی کے رکن بھی شامل ہوئے تھے ۔میں نے بھی بہت سے ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے اور تمام کا یہ ماننا ہے کہ شوٹنگ کے لیے دولت مشترکہ کھیلوں میں بنے رہنا چاہئے ۔یہاں تک کہ برطانوی شوٹنگ کمیونٹی بھی اس فیصلے سے ناراض ہے کیونکہ گولڈ کوسٹ نشانہ بازی میں وہ خود تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔رن اندر نے کہاکہ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں اور میں اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ شوٹنگ کو دولت مشترکہ کھیلوں میں بحال کروانے کی کوشش کرے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو برمنگھم کھیلوں کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ میں اگلے ایک دو دن میں حکومت اور آئی اواے کو خط لکھوں گا۔انہوں نے کہاکہ شوٹنگ کی اپنی روایت ہے ۔یہ ایک اولمپک کھیل ہے،ہمارا ان کھیلوں میں شاندار ریکارڈ ہے تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ کس طرح اسے دولت مشترکہ کھیلوں سے باہر کر دیا گیا۔یہ فیصلہ کب اور کیسے لیا گیا، پتہ نہیں، اس میں این آر اے آئی سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ میں کل ممبئی میں آئی او سی کی رکن نیتا امبانی سے اس معاملے پر بات کروں گا۔رن اندر نے کہاکہ نشانے بازی کو دولت مشترکہ کھیلوں سے ہٹانے کے پیچھے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ یہ دیکھنے والے زیادہ لوگ نہیں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ2014 کے گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں میں شوٹنگ مقابلوں میں جگہ نہیں بچی تھی جبکہ گولڈ کوسٹ میں تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے تھے ۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ نشانے بازوں کافی آرام دینے کے مقصد سے ہندستان امریکہ ٹسکن ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے گا۔ انھوں نے کہاکہ ہم اس ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ نشانے بازوں کو آرام کی ضرورت ہے ۔