برقی کی قلت کو دور کرنے کے اقدامات

میدک میں سب اسٹیشن کا افتتاح ، ٹی ہریش راؤ کا خطاب
میدک /12 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مشن کاکتیہ کے تحت انجام دئے جانے والے تالابوں کی صفائی کے کاموں کو جنگی خطوط پر مکمل کرلئے جائیں ۔ مانسون کی آمد قریب ہے ۔ امسال اگر شاندار بارش ہوجائے تو تمام تالاب لبریز ہوں گے ۔ وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ میدک منڈل کے لنگسان پلی پر ایک تالاب سے مٹی کی نکاسی کے کاموں کا آغاز کرتے ہوئے ان خیالات کااظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تالابوں سے نکاسی کردہ مٹی زرعی مقاصد کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ مسٹر سریش راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کے مشن کاکتیہ پروگرام کو دیگر ریاستوں میں بھی پسند کیا جارہا ہے ۔ مسٹر ہریش کے ہمراہ ریاستی ڈپٹی اسپیکر قانون ساز اسمبلی محترمہ ایم پدما دیویندر ریڈی بھی موجود تھیں ۔ ہریش راؤ کے ہاتھوں میدک منڈل کے حویلی گھن پور پر برقی قلت پر قابو پانے کے مقصد سے 33/11 کے وی برقی سب اسٹیشن کی تنصیب کیلئے سنگ بنیاد رکھاگیا ۔ اس پراجکٹ کی تکمیل کیلئے حکومت ایک کروڑ 40 لاکھ جاری کی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت برقی قلت پر قابو پاتے ہوئے زرعی مقاصد کیلئے پورے 9 گھنٹے برقی سربراہی کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ۔ ریاستی وزیر کے ہاتھوں فریدپور پر سڑک کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ جس کیلئے 41 لاکھ صرف ہوں گے ۔ اسی طرح قاضی پلی پر بھی 48.03 لاکھ کے خرچ سے سڑک کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا اور میدک کے نواح میں پلی کویٹال سڑک کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس سڑک کی تعمیر کیلئے 78 لاکھ صرف کئے گئے ۔ قبل ازیں دورہ میدک منڈل و ریاستی وزیر ہریش راؤ نے میدک کے چنا شنکرم پیٹ پر بھی مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا ۔ تفصیلات کے مطابق کامارم پر سڑک کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا اور پدمانابھا سوامی گٹہ سڑک کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا ۔ اسی طرح چناشنکرم پیٹ میں مہیلا سمکیا بھون کا افتتاح کیا اور ایک سڑک کی تعمیر کیلئے بھی سنگ بنیاد رکھا ۔ اس پروگرام میں سپرنٹنڈنگ انجینئیر ٹرانسکو مسٹر سداسیوریڈی ایگزیکیٹیو انجینئیر آبپاشی مسٹر ایشیا آر ڈی او میدک ایم ناگیش ، تحیصلدار میدک وجئے لکشمی ، رکن زیڈ پی ٹی سی لاوانیا ریڈی ، ایم پی پی میدک ایم لکشمی ، چیرمین بلدیہ مسٹر اے ملکارجن گوڑ ، صدر ٹی آر ایس میدک ٹاون اینڈ میناریٹی سیل مسرز ایم گنگادھر ، محمد فاضل ڈی ایس پی توپران مسٹر وینکٹیشورلو بھی موجود تھے ۔
٭٭٭