براوؤ اور پولارڈ کا اخراج بڑا نقصان:ہولڈر

سڈنی ۔ 9 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ویسٹ انڈیز ٹیم کے کپتان جیسن ہولڈر نے آج کہا ہے کہ ٹیم کے دو اہم کھلاڑی ڈیون براوؤ اور کیرن پولارڈ کا ٹیم سے اخراج بہت بڑا نقصان ہے لیکن سابق چمپین ٹیم ورلڈکپ کے دوران آگے بڑھنے پر اپنی توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ ورلڈ کپ سے دو ماہ قبل حیران کن طور پر کپتان بنائے جانے کے ضمن میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہولڈر نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کی رسائی سے باہر ہے ۔ جیسن ہولڈر نے مذکورہ بالا کھلاڑیوں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو کھلاڑی گزشتہ ایک عرصہ سے عالمی کرکٹ میں شاندار مظاہرے کرچکے ہیں۔ ہولڈر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ان دو کھلاڑیوں کے اخراج سے ٹیم پر اثر پڑے گا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹیم کیلئے اہم ہیں لیکن ان کے اخراج کے بعد ٹیم ورلڈکپ میں آگے بڑھنے پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ 23 سالہ ہولڈر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (ڈبلیو آئی سی بی) اور کھلاڑیوں کے درمیان رقومات کی ادائیگی کے تنازعہ کے بعد کپتان بنائے جانے والے نوجوان کھلاڑی بن چکے ہیں ۔ بورڈ اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے درمیان رقومات کی ادائیگی کے تنازعہ کی وجہ سے کھلاڑیوں نے ہندوستان کا دورہ درمیان میں چھوڑ کر وطن لوٹ گئے تھے اور یہ واقعہ گزشتہ برس اکتوبر کا ہے۔ کھلاڑیوں کے احتجاج میں براوؤ اور پولارڈ سرفہرست رہے ہیں جن کے اخراج کو ٹیم کے سابق فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نے بدلہ لینے کی کارروائی قرار دیا ہے لیکن چیف سلیکٹر کلائیو لائیڈ اور بورڈ نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے، ان حالات میں ہولڈر نے کافی غور و خوض کے بعد ٹیم کی قیادت قبول کی ہے ۔ غور و خوض کے بعد قیادت قبول کرنے کے متعلق ہولڈر نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ڈریسنگ روم میں چند کھلاڑیوں سے تبادلہ خیال اور صلح و مشورہ کے بعد قیادت قبول کی ہے کیونکہ میں نے انڈر 19 میں ویسٹ انڈیز کی قیادت کرنے کے علاوہ اے ٹیم کا نائب کپتان بھی رہ چکا ہوں۔ہولڈر نے جنوبی افریقہ کے خلاف 4-1 کی شکست کے باوجود ان عزائم کا اظہار کیا کہ ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہتر مظاہرہ کیلئے تیار ہیں حالانکہ ٹیم کے مظاہروں میں استقلال کا فقدان ہے۔ ہولڈر کے بموجب انہوں نے کھلاڑیوں سے بہتر تعلقات بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔