مناما 22 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بحرین میں عوام نے 2011 کی تحریک کے بعد سے پہلی مرتبہ مقننہ انتخابات میں رائے دہی کا آغاز کیا حالانکہ یہاں شیعہ اپوزیشن کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ 40 نائبین کا انتخاب کرنے کیلئے 350,000 افراد سے رائے لی جا رہی ہے ۔ امیدواروں میں جملہ 266 سنی ہیں۔ بحرین میں سنی حکمرانوں اور شیعہ اپوزیشن کے مابین کسی طرح کے اتفاق کی امیدوں کے بغیر یہ انتخابات کروائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کے اصل گروپ الوقاف نے اس انتخابی عمل کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مملکت کے حکمران اگر اقتدار پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کرینگے تو ملک میں تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ سال 2011 کے اوائل میں اپوزیشن کی جانب سے شروع کی گئی انقلابی تحریک ایک مہینے تک چلی تھی جس کے بعد وہاں حکام کے رویہ میں تبدیلی بھی محسوس کی گئی ۔ اپوزیشن کے سیاسی گروپس کی جانب سے قومی مذاکرات کے نام پر اختلافات کو دور کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں ۔ کئی مرتبہ کی بات چیت ہوئی ہے لیکن ہر بار ناکامی ہوئی ہے ۔ ملک میں آج صبح پولنگ اسٹیشنس صبح 8 بجے کھلے اور رات 8 بجے تک رائے دہی کا سلسلہ جا ری رہے گا ۔ بلدی انتخابات کیلئے بھی رائے دہی ان ہیں اوقات میں ہو رہی ہے ۔ دوسرے دور کی رائے دہی آئندہ ہفتے کو ہونے والی ہے ۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ سے رائے دہی کا تناسب گھٹنے کا امکان ہے ۔