کریم نگر ۔ 12 ۔ مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹی آر ایس حکومت کا پہلی مرتبہ پوری سطح پر پیش کردہ بجٹ 2015 – 16 کے بارے میں بہت بڑائی کی جارہی ہے ، تعریف کی جاتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ وزیرفینانس اپنی تقریر میں اعداد و شمار کا چمتکار کرتے ہوئے حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اپنے قائد اور حکومت کی کارکردگی کی جھوٹی تعریف کی ہے ۔ سابقہ رکن پارلیمنٹ پورنم پربھاکر نے سخت تنقید کی ۔ پونم پربھاکر نے اپنے جاری صحافتی بیان میں تحریر کیا ہیکہ متحدہ ریاست میں بی سیز کو 3 فیصد فنڈز مختص کرنے پر فی الحال موجودہ حکومت 1.82 فنڈز ہی مختص کیا ہے بی سیز کا گلا دبا دیا گیا ہے اسی طرح ایس سی ، ایس ٹیز بہبود کے تحت بھی بہت کم فنڈز مختص کیا گیاہے ۔ دلتوں کو تین ایکر اراضی مختص کا اتہ پتہ نہیں ، تعمیر امکنہ کیلئے فنڈز مختص نہ کرتے ہوئے اس وعدے کو نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ تلنگانہ حصول میں شریک طلباء کو بجٹ میں پوری طرح سے نظرانداز کیا گیا ہے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۔ کسانوں کے قرض معافی کے سلسلے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی ہے ۔ جبکہ وزیرفینانس ضلع کریم نگرکے متوطن ضلع کیلئے بجٹ میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے فنڈز ہونے کی وجہ سیشاتاواہنا یونیورسٹی اورکو جگتیال کی زرعی ریسرچ سنٹر کیلئے بھی بجٹ حقیر ہی ہے ۔ اس طرح ویملواڑہ راجہ راجیشور کاشیورم ، دھرم پوری ، ودیگر کی ترقی کیلئے بھی بجٹ میں کوئی فنڈ نہیں دیا گیا ہے ۔ اس بجٹ میں صرف وعدے ، تیقنات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔اس طرح سے ٹی آر ایس حکومت کا اصلی روپ ظاہر ہوچکا ہے ۔ پرنم پربھاکر نے سخت تنقید کی ۔