نئی دہلی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اور اترکھنڈ کے تین حلقوں میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں ہمدردی کی لہر کے سبب شیوسینا، کانگریس اور این سی پی کی خاتون امیدواروں نے کامیابی حاصل کی لیکن ممبئی کی مشرقی باندرہ نشست پر کانگریس کے طاقتور امیدوار نارائن رانے کو شکست ہوگئی۔ صرف 6 ماہ کے دوران رانے کی یہ دوسری انتخابی شکست تھی۔ پنجاب کے حلقہ دھوری میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں شرومنی اکالی دل نے قابل لحاظ اکثریت کے ساتھ کانگریس کے قبضہ سے نشست چھین لی،
جہاں اکالی دل کے امیدوار گویند سنگھ لونگوال نے سابق چیف منسٹر وگور سرجیت سنگھ برنالہ کے پوتے کو شکست دی۔ مہاراشٹرا کے سابق چیف منسٹر 63 سالہ نارائن رانے کو گذشتہ اکٹوبر میں کونکن میں واقع ان کے حلقہ کنکادلی میں شکست ہوگئی تھی اور آج باندرہ سے شیوسینا کے متوفی رکن بالا ساونت کی بیوہ تروپتی ساونت کے مقابلہ 19,008 ووٹوں سے شکست ہوگئی۔ تروپتی ساونت کو 52,711، رانے کو 33,703 ووٹ حاصل رہے۔ مجلس کے رہبر خان 15050 ووٹ لیکر بہت دور کے تیسرے مقام پر رہے۔ چھ ماہ قبل اس حلقہ سے مجلس کو 24000 ووٹ ملے تھے، لیکن اس مرتبہ اس کو حاصل ہونے والے ووٹوں میں زبردست کمی ہوئی۔ حلقہ دھوری سے اکالی دل کی کامیابی کے بعد 117 رکن ایوان میں اس کے ارکان کی تعداد 59 ہوگئی ہے اور اب وہ بی جے پی کی تائید کے بغیر بھی قطعی اکثریت حاصل کرچکی ہے۔
اس طرح مہاراشٹرا کے ضلع سانگلی کے تحت اسمبلی حلقہ تسگاؤں کاوائے مہان کالی سے سابق ڈپٹی چیف منسٹر آنجہانی آر آر پاٹل کی بیوہ سمن تائی پاٹل 1-12 لاکھ ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منتخب ہوئیں۔ ان کے خلاف کسی بھی بڑی جماعت نے اپنا امیدوار نہیں ٹھہرایا تھا۔ اترکھنڈ میں حکمراں کانگریس کو حلقہ اسمبلی بھگوان پور میں کامیابی حاصل ہوئی جہاں اس کی امیدوار ممتاراکیش نے بی جے پی امیدوار راج پال سنگھ کو 37000 ووٹوں سے شکست دی۔ 2012ء کے انتخابات میں ممتا کے شوہر راکیش بی ایس پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد وہ وزیر بھی بنائے گئے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ نشست مخلوعہ ہوئی تھی۔ اس کامیابی کے بعد 70 رکن اترکھنڈ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔ اس طرح وہ اپنے طور پر ایوان میں اکثریت حاصل کرچکے ہیں۔
نارائن رانے ہی قیادت کریں گے: کانگریس
ایم آئی ایم جیسی پارٹیوں نے ووٹ تقسیم اور اقلیتوں کو گمراہ کیا
ممبئی 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی صدر اشوک چاوان نے باندرہ (ایسٹ) ضمنی انتخابات میں مقابلہ کا چیلنج قبول کرنے پر نارائن رانے کی سراہنا کی۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس شکست سے پارٹی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ نارائن رانے شکست کے باوجود پارٹی کی قیادت کرتے رہیں گے۔ اُنھوں نے گزشتہ سال اکٹوبر کے اسمبلی انتخابات کے مقابلہ کافی بہتر مظاہرہ کیا۔ اِس حلقہ میں پارٹی کے ووٹوں کے فیصد میں بہتری آئی ہے۔ اُنھوں نے ایم آئی ایم جیسی جماعتوں کو اِس شکست کیلئے مورد الزام قرار دیا جن کی وجہ سے شیوسینا اور بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح کی جماعتیں ووٹ تقسیم کرتی ہیں اور اُنھوں نے اقلیتوں کو گمراہ کیا ہے۔ اِس کا فائدہ شیوسینا ۔ بی جے پی کو ہوا۔ باندرہ (ایسٹ) ضمنی انتخاب کے نتیجہ نے پھر ایک بار اس حقیقت کو ثابت کیا ہے۔ چاوان نے کہاکہ شکست سے کانگریس غیر متاثر رہے گی اور ریاستی و مرکزی سطح پر بی جے پی ۔ سینا حکومت کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا جائے گا۔