بالاکوٹ حملے کا واحد مقصد لوک سبھا انتخابات جیتنا، فاروق عبداللہ کا الزام

’’مودی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوگئی اور اُسے پاکستان سے اُلجھنے کے سوا کچھ نہیں سوجھا‘‘

سرینگر 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے آج بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ اُس نے پاکستان کے بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کا حکم محض لوک سبھا انتخابات جیتنے کے ’’واحد مقصد‘‘ سے دیا۔ سرینگر کے ایم پی نے الزام لگایا کہ بی جے پی تمام محاذوں پر ناکام ہوگئی اور اُسے اندیشہ ہوا کہ چناؤ سے قبل پاکستان کے ساتھ کچھ لڑائی یا جھڑپ ہوجائے تو وزیراعظم نریندر مودی شاید اوتار بن جائیں گے جس کے بغیر ہندوستان کی بقاء نہیں ہوسکتی۔ عبداللہ نے یہاں میڈیا والوں کو بتایا کہ سرجیکل اسٹرائیک صرف الیکشن کے مقصد سے کی گئی، بالکلیہ الیکشن کیلئے۔ ہم کروڑہا روپئے مالیت کے طیارے سے محروم ہوگئے۔ شکر ہے کہ فضائیہ کا پائلیٹ (ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان) بچ گیا اور پاکستان کی طرف سے عزت کے ساتھ واپس کیا گیا۔ 26 فروری کو طلوع آفتاب سے قبل کی گئی کارروائی میں انڈین ایرفورس نے بالاکوٹ میں جیش محمد کے سب سے بڑے ٹریننگ کیمپ پر بم گرائے۔ یہ فضائی حملہ 14 فروری کو پلوامہ میں پیش آئے دہشت گرد حملے کے جواب میں کیا گیا جس میں 40 سی آر پی ایف جوان ہلاک ہوگئے تھے۔ فاروق عبداللہ نے کہاکہ پارلیمنٹ میں ہم جانتے ہیں وہ تمام چیزوں میں ناکام ہوگئے اور کشمیر میں پاکستان کے ساتھ لڑائی یا جھڑپ ہونے پر وہ (وزیراعظم نریندر مودی) شاید اوتار کے روپ میں اُبھر آئیں گے جس کے بغیر ہندوستان کی بقاء نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ چاہے وہ یا میں زندہ رہیں یا نہ رہیں ہندوستان باقی رہے گا اور آگے بڑھتا رہے گا۔ صدر این سی نے کہاکہ چناؤ میں بی جے پی کو مدد کرنے کے لئے خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ تو لڑی نہیں جاسکتی البتہ خوف کا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے، یہ حکومت صرف سینئر افسروں کو استعمال کرتے ہوئے الیکشن جیتنا چاہتی ہے، ایسے افسر جنھیں دیگر کے مقابل آگے بڑھاتے ہوئے اُنھوں نے اعلیٰ منصب سے راغب کیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات چیت کے سوا حل کا کوئی راستہ نہیں۔ نئی دہلی نے کشمیر کو بین الاقوامی منظر پر لایا۔ کئی ممالک ہندوستان اور پاکستان کو کشمیر کے بارے میں مذاکرات میں مشغول کرنا چاہتے ہیں اور اُنھیں بات چیت کرنی پڑے گی کیوں کہ یہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔ ریاست میں اسمبلی چناؤ کو موخر کرنے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے کے تعلق سے پوچھنے پر فاروق عبداللہ نے کہاکہ اُنھیں جموں و کشمیر میں مرکز کی جانب سے کچھ شرارتی عمل معلوم ہوتا ہے۔ وہ شاید ریاستی اسمبلی کے چناؤ میں کچھ شرارت کا منصوبہ رکھتے ہیں، اِسی لئے اِسے موخر کردیا ہے۔ صدر این سی نے کہاکہ تمام پارٹیاں بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ منعقد کرنے کے حق میں ہیں اور اب عوام کو سمجھنا چاہئے کہ اُن کا مقصد کیا ہے۔ اگر ہم متحد رہتے ہیں تو اُن کے عزائم ناکام ہوجائیں گے۔