کولکتہ۔/6جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) اب جبکہ لوک سبھا انتخابات میں سی پی آئی ( ایم ) کی قیادت والے بائیں محاذ کو شدید ہزیمت اُٹھانی پڑی جو ایک زمانے میں مغربی بنگال کا اہم ترین محاذ تصور کیا جاتا تھا۔ اب یہ صورتحال ہے کہ پارٹی میں قیادت اس بات پر تقسیم ہوگئی ہے کہ آیا مغربی بنگال میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ حاصل کرنے پارٹی کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ یاد رہے کہ ریاست میں سی پی آئی ( ایم ) کو صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی تھی جو آج تک سی پی آئی ( ایم ) کو ملنے والی نشستوں کی سب سے کم تعداد ہے جس کی وجہ سے پارٹی کے قومی تشخص پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں اور اندیشے بھی ظاہر کئے جارہے ہیں کہ پارٹی کہیں مقامی سطح تک ہی نہ محدود ہوجائے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں پارٹی نے اپنے دو روزہ اجلاس کا اہتمام کیا تھا تاکہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی شکست فاش کی ٹھوس وجوہات کا پتہ لگایا جائے اور مستقبل کا لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے انتخابی دھاندلیوں کو حالانکہ سی پی آئی ( ایم ) کی شکست کی وجہ بتایا جارہا ہے لیکن پارٹی ہنوز یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں جن کی بنیاد پر پارٹی کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ مل جائے۔ دوسری طرف سی پی آئی ( ایم ) پولیٹ بیورو وردا راجن نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ سی پی آئی ( ایم ) کی شکست فاش کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو ترنمول کانگریس کی جانب سے تشدد اور انتخابی دھاندلیاں اور دوسرے یہ کہ عوام جو ترنمول کانگریس سے بدظن تھے ، انہوں نے سی پی آئی ( ایم ) کو ترنمول کانگریس کا متبادل سمجھنا گوارہ نہیں کیا۔ بہرحال وردا راجن نے بھی پولیٹ بیورو کے دیگر ارکان جیسے برنداکرت اور ایس رامچندرن پلائی کی طرح بائیں محاذ کی بحالی کیلئے لب کشائی سے گریز کیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اہمیت کی حامل مرکزی پولیٹ بیورو و سنٹرل کمیٹی کے اجلاس سے قبل کوئی بیان دینانہ چاہتے ہوں۔