نئی دہلی۔20 جون (سیاست ڈاٹ کام) پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی ایم ایل اور ایس ٹی یو آئی نے ایک احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی اور سڑکوں پر جلوس نکالا۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سی پی آئی (ایم) کے تقریباً 500 کارکن شرکت کررہے تھے۔ سی پی آئی فارورڈ بلاک آر ایس پی، سی پی آئی ایم ایل اور ایس یو سی آئی کے کارکنوں نے بھی احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ چلر فروشی کی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے بے چینی پیدا کرنے کا ادعا کرتے ہوئے بائیں بازو کی پارٹیوں نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں منفی اثر مرتب ہوگا اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔ نریندر مودی حکومت عام آدمی کے لیے کچھ بھی نہیں کررہی ہے اور نیرو مودی و وجئے مالیہ جیسے لوگوں کو رقم چراکر ملک سے باہر چلے جانے کا موقع فراہم کررہی ہے جبکہ عوام ایندھن کی قیمتوں میں اضافے جیسی لعنت کے خلاف سخت جدوجہد کررہے ہیں۔ سی پی آئی ایم قائد برندا کرت نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹیاں اس احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہیں وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے ملک گیر سطح پر متاثر ہیں۔ ہندوستان میں جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ایندھن کی قیمت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ٹیکسوں کے ذریعہ ایندھن سے سب سے زیادہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
رمضان میں صلح کے باوجود دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری : راوت
نئی دہلی۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں دہشت گردوں نے اپنی سرگرمیاں رمضان کے دوران بھی جاری رکھی ہیں جس کی وجہ سے جنگ بندی کو مرکزی حکومت کی جانب سے معطل کرنا پڑا۔ سربراہ فوج جنرل بپن راوت نے آج اپنے بیان میں کہا کہ ریاست میں گورنر راج سے جاریہ فوجی کارروائیوں پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں فوجی کارروائی ماضی کی طرح جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے ایک تقریب کے موقع پر علیحدہ طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں قبل ازیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ ہم نے مرحلہ وار طور پر ان کارروائیوں کو معطل کیا تھا۔ کیوں کہ ہم چاہتے تھے کہ عوام کو نماز عید ادا کرنے کا موقع مل سکے اور نماز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اس کے باوجود دہشت گردوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ پھر فوج کو اپنی کارروائی معطل کیوں کرنا چاہئے۔ گورنر راج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس سے فوجی کارروائیاں متاثر نہیں ہوں گی۔ ہم کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کرتے۔ صیانتی افواج انتہائی سخت قواعد رکھتی ہیں اور ان کے مطابق کارروائی کرتی ہیں۔ جنگ بندی کا اعلان ماہ رمضان کے پیش نظر مرکزی حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا، اس کے باوجود اس مقدس مہینے میں بھی دہشت گردی جاری رہی۔