ٍبنگلورو۔24؍مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) لیڈر ایچ ڈی کمار سوامی نے ایک عددی لاٹری کے گھپلے میں ہوئی مبینہ دھاندلیوں کو روکنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت کو برخاست کردیں۔ اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ شہر بنگلور اور ریاست میں کھلے عام جاری ایک عددی لاٹری او رمٹکا کی تجارت کو روکنے میں وزیر داخلہ کے جے جارج بری طرح ناکام رہے ہیں، انہیں فوراً اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ریاستی حکومت اس معاملے میں اگر سچائی سامنے لانا چاہتی ہے تو معاملہ سی بی آئی کے سپرد کردے۔ سی آئی ڈی کی ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس معاملے میں 30 سے زائد اعلیٰ پولیس افسران شامل ہیں۔ کمار سوامی نے کہاکہ جب انہوںنے یہ معاملہ وزیر داخلہ جارج کے علم میں لایا تو جارج نے یہ کہہ کر مسترد کردیاتھاکہ آئی پی ایس درجے کا کوئی افسر اس معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ کمار سوامی نے کہاکہ ایک عددی لاٹری کا یہ دھندہ آج شروع نہیں ہوا بلکہ یہ اس وقت سے جاری ہے جب شنکر بدری شہر کے پولیس کمشنر تھے۔ اس معاملے کے سرغنہ پاری راجن کو سب سے پہلے شنکر بدری نے ہی پناہ دی تھی۔ انہی کی ایماء پر دیگر آئی پی ایس افسران بھی پاری راجن کے جال میں آگئے۔ انہوںنے کہاکہ ایک عددی لاٹری کے مافیا کی طرف سے پولیس افسران کو جو معمول دیا جارہاتھا، اس کی تقسیم میں اختلاف کی وجہ سے ہی یہ معاملہ باہر آگیا ہے۔ لاٹری پر پابندی کی نگرانی کرنے والے محکمہ کے ایس پی دھرنیش کو معطل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی میں تاخیر برتی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ شہر کے ایک اڈیشنل کمشنر آف پولیس الوک کمار کا سوشیل میڈیا پر یہ بیان کہ لاٹری گھپلے کا سرغنہ پاری راجن ان کا خیر خواہ رہا ہے، دیکھ کر حیرت ہوئی۔ افسران اگر قانون کے دشمنوں سے تعلقات کو اس سطح تک بڑھاوا دیں گے تو سیاست میں نظم وضبط کی نگرانی کے معیار کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ وزیراعلیٰ سدرامیا بار بار یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت گھپلوں سے پاک ہے۔