ایچ سی اے میں 131 کروڑ روپئے کا خرد برد

حیدرآباد ۔ 3 جولائی ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن ( ایچ سی اے ) میں 131 کروڑروپئے کی مالیاتی بدعنوانیوں ، تغلب اور ہیراپھیرکی محکمہ انسداد رشوت ستانی کی طرف سے جاری تحقیقات اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ختم ہونے کے قریب پہونچ گئی ہیں۔ ایچ سی اے میں 2003-04 اور 2011-12 کے دوران بورڈ آف کرکٹ کنٹرول انڈیا ( بی سی سی آئی ) کی طرف سے دی گئی رقومات میں خرد برد کے علاوہ اپل کے راجیوگاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میزبانی کے موقع پر اشتہارات کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی میں بڑے پیمانے پر تغلب و ہیرپھیر کے الزامات ہیں۔ اے سی بی کی طرف سے گذشتہ دو سال کے دوران کی گئی ابتدائی تحقیقات کے بعد اے سی بی عدالت نے اس محکمہ کے ڈائرکٹر جنرل کو مزید تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ بعد ازاں اے سی بی حکام نے ایچ سی اے ذمہ داروں کے خلاف ہندوستانی تعزیری قوانین کی فوجداری دفعات بشمول 420 اور 409 مختلف مقدمات درج کئے ہیں۔ اے سی بی نے ایچ سی اے ذمہ داروں کے نام 8 فبروری 2014 کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات کا اندون 15 دن جواب دینے کی ہدایت کی تھی ۔ دیڑھ سال گزرنے کے باوجود تاحال یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ایچ سی اے آیا کوئی جواب بھی دیا ہے

اور اگر دیا ہے تو اس میں کیا کہا گیا ہے جس پر اے سی بی حکام نے کیا کارروائی کی ہے ۔ اے سی بی نے محسوس کیا ہے کہ 2003-04 اور 2011-12 کے دوران فکسڈ ڈپازٹ کے طورپر مختلف بینکوں میں 55 کروڑ روپئے محفوظ کروائے گئے تاہم اس کے کوئی سرٹیفکیٹش پیش نہیں کئے گئے ۔ 2003-12 کے دوران مختلف سرگرمیوں کے لئے بطور پیشگی رقم دیئے جانے والے سات کروڑ روپئے کے حسابات بھی نہیں بتائے گئے ۔ 2007-08 میں کارپوریٹ باکس کی فروخت سے حاصل ایک کروڑ روپئے کی تفصیلات بھی پیش نہیں کی گئیں ۔ علاوہ ازیں ایچ سی اے ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان میں بطور تحفہ تقسیم کے طورپر 49 لاکھ روپئے مالیاتی طلائی بکسوں کی تیاری وغیرہ بھی بدعنوانیوں کے الزامات میں شامل ہے۔