ایودھیا، وارناسی اور متھرا میں صیانتی انتظامات

نئی دہلی ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا، وارناسی اور متھرا کے مذہبی مقامات کے حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کردی جائے گی کیونکہ محکمہ سراغ رسانی نے اطلاع دی ہیکہ دہشت گرد تنظیمیں ان پر حملہ کرسکتی ہیں۔ یہ فیصلہ آج منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے کی تھی اور ڈی جی پی سی آر پی ایف دلیپ دیویدی، یو پی کے ڈی جی پی اے آئی بنرجی، پرنسپل سکریٹری (داخلہ) دیپک سنگھ سنگھل اور دیگر شریک تھے۔ زیادہ تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے اور دیگر برقی آلات نئی صیانتی مشق کے مطابق نصب کئے جائیں گے۔ یہ مشق مذہبی مقامات پر کی جائے گی۔ سی آر پی ایف جو مذہبی مقامات کی حفاظت کررہی ہے، ہدایت حاصل کرچکی ہیکہ مزید جمیعت تعینات کی جائے اور 24 گھنٹے چوکسی اختیار کی جائے تاکہ مذہبی مقامات پر دہشت گردوں کے حملے کی کسی بھی امکانی کوشش کو ناکام بنایا جاسکے۔ ایودھیا اور وارناسی میں ماضی میں دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں۔ 5 جولائی 2005ء کو 5 دہشت گردوں نے رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد عارضی عمارت پر حملہ کیا تھا، تمام پانچوں دہشت گردوں کو سی آر پی ایف کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں گولی مار دی گئی تھی جبکہ ایک شہری دستی بم حملہ سے ہلاک ہوا تھا۔ سی آر پی ایف کے تین سپاہی بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ دہشت گردوں نے وارناسی میں دو بار دھماکے کئے تھے۔ جولائی 2006ء میں 3 دھماکے کئے گئے تھے جبکہ آرتی اتاری جارہی تھی۔ ڈسمبر 2010ء میں سیتلاگھاٹ سے متصل دش اشومیت گھاٹ پر دھماکہ کیا گیا تھا جہاں شام کی پوجا کا آغاز ہوچکا تھا۔ ایک دو سالہ لڑکی ہلاک کردی گئی تھی جبکہ اس کی ماں دیگر 38 افراد کے ساتھ شدید زخمی ہوئی تھی۔