بغیر نسخہ میڈیکل شاپس سے ادویات کی فروخت، ڈرگس کنٹرول کے دھاوے
محبوب نگر /17 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سردی، کھانسی اور زکام جیسی معمولی بیماریوں کے لئے بھی اینٹی بائیوٹک دواؤں کا استعمال آج عام ہو چکا ہے۔ بیماری سے جلد چھٹکارا کے لئے عوام اور نام کمانے کے لئے ڈاکٹرس ان دواؤں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ضلع بھر میں میڈیکل شاپس کے مالکین ڈاکٹروں کی تشخیص کے بغیر خود دوائیں تجویز کرکے فروخت کر رہے ہیں۔ اینٹی بائیوٹک دواؤں سے جسم پر برے اثرات کا مرتب ہونا یقینی ہے۔ ضلع بھر میں حال میں ڈرگس کنٹرول عہدہ داروں نے میڈیکل شاپس پر دھاوا کیا تو یہ حقائق سامنے آئے کہ اینٹی بائیوٹک دواؤں کا استعمال کثرت سے ہو رہا ہے اور زیادہ تر دوائیں میڈیکل شاپس والے اپنے طورپر فروخت کر رہے ہیں۔ عہدہ داروں کی ٹیم نے دھاوے کے دوران بے قاعدگیوں کے مرتکب 89 میڈیکل شاپس کے لائسنس منسوخ کئے، جب کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 475 میڈیکل شاپس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ زیادہ تر میڈیکل شاپس میں لائسنس یافتہ فارماسسٹ نہیں ہیں اور 91 میڈیکل شاپس قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلائے جا رہے تھے۔ عہدہ داروں کی ٹیم نے 45 میڈیکل شاپس سے دواؤں کے نمونے حاصل کئے۔ قواعد کے لحاظ سے جو دوائیں تاریخ ختم ہونے کے بعد ناکارہ ہو جاتی ہیں، انھیں علحدہ باکس میں رکھا جانا چاہئے، لیکن یہ دوائیں بھی دیگر دواؤں کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ عہدہ داروں نے میڈیکل شاپس کے ذمہ داروں کو انتباہ دیا کہ وہ معمولی غلطیوں کی فوری اصلاح کرلیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع کے میڈیکل شاپس سے دواؤں کی بل نہ دینے کی عام شکایت ہے۔ علاوہ ازیں میڈیکل کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹرس کو نمونے کے طورپر جو دوائیں دی جاتی ہیں، ان دواؤں کو میڈیکل شاپس پر فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں۔ محترمہ انجم عابدہ اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر نے بتایا کہ مریض انتہائی تکلیف کی صورت میں ہی اینٹی بائیوٹک دوائیں استعمال کریں، لیکن ضلع کے بعض ڈاکٹرس چھوٹے موٹے امراض کے لئے بھی اینٹی بائیوٹک دوائیں تجویز کر رہے ہیں اور مریض میڈیکل شاپس سے راست رجوع ہوتے ہوئے ایسی دوائیں خرید رہے ہیں، جو نقصاندہ ہیں۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ شکایت وصول ہونے پر ایسی دوکانات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر پربھاکر ریڈی پرنسپل کالج آف فارمیسی پالمور یونیورسٹی نے بتایا کہ اینٹی بائیوٹک دوائیں سخت ضرورت پر صرف پانچ تا سات دن استعمال کی جاسکتی ہیں، جب کہ اس کے ساتھ بی کمپلیکس دواؤں کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ صرف اینٹی بائیوٹک دواؤں سے اعضائے رئیسہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انھوں نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ آج کل چھوٹے بچوں کے لئے اینٹی بائیوٹک دوائیں تجویز کی جا رہی ہیں۔ اگر ابتداء ہی سے چھوٹے بچوں کو یہ دوائیں دی جائیں تو جسمانی اعضاء کو نقصان کے ساتھ ساتھ بعد میں یہ دوائیں بچوں پر اثر نہیں کرتیں۔ انھوں نے ڈاکٹروں کو مشورہ دیا کہ وہ انتہائی ضرورت پر ہی ایسی دوائیں تجویز کریں اور مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ راست میڈیکل شاپس سے دوائیں نہ خریدیں، بلکہ ڈاکٹروں سے رجوع ہوکر ان کی تجویز کردہ دوائیں ہی خریدیں۔ عوام کا احساس ہے کہ ڈرگس عہدہ داروں نے جو دھاوے کئے ہیں اور بے قاعدگی پر جو لائسنس منسوخ کئے ہیں، وہ قابل ستائش اقدام ہے۔ عوام کا یہ بھی احساس ہے کہ ڈاکٹرس بھی بے ضرورت صرف مالی منفعت کے لئے غیر معیاری دوائیں کافی تعداد میں تجویز کر رہے ہیں۔ اب میڈیکل شاپس والے لائسنس کی منسوخی کے خوف سے بے اثر اور غیر معیاری دوائیں فروخت نہیں کریں گے۔