ڈھاکہ۔ 29 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) دنیا کے سب سے گنجان براعظم ایشیا میں کرکٹ کا فروغ خطرات سے دوچار ہوگیا ہے۔ اس خدشے کا اظہار ایشین کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق نے کرکٹ ویب سائٹ سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور ہمارے درمیان 31 دسمبر 2015 تک کا معاہدہ ہے جس کے مطابق ہمیں عالمی تنظیم سے فنڈز ملتے ہیں۔ آئی سی سی کے فارمولے کے مطابق اس کی کل آمدنی کا 6 فیصد کھیل کے فروغ کیلئے مختص کیا جاتا ہے جس میں نصف اے سی سی اور باقی 50 فیصد دیگر ممالک کو دیا جاتا ہے لیکن مذکورہ بالا قطعی تاریخ کے بعد اس بات کے اشارے دیے جارہے ہیں کہ آئی سی سی پیسے دینا بند کردے گی کیونکہ ہمیں کہا گیا کہ رکن ممالک کو موجودہ حصے سے زیادہ پیسے دیے جائیں گے۔ اگر ہمارے اور آئی سی سی کے درمیان معاہدہ ختم ہوگیا تو ایشین کرکٹ کونسل کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اشرف الحق نے مزید کہا کہ ایشیائی ٹیموں کو پیسے ہمارے ذریعہ دیئے جاتے ہیں لیکن جب ہمیں کچھ نہیں ملے گا تو ہم اپنے ارکان میں کیا تقسیم کریں گے؟ خزانہ خالی ہونے کی صورت میں ہم کئی ٹورنمنٹس کے انعقاد کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔ ہم سال بھر میں 8تا9 ایونٹس کرواتے ہیں جس میں خواتین کے ایج گروپ ٹورنمنٹس بھی شامل ہیں۔ ہمیں ابھی عالمی گورننگ باڈی نے اس ضمن میں باضابطہ مطلع کیا ہے نہ ہی کوئی نوٹس ملا ہے تاہم غیر رسمی طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ ایک برس بعد کیا ہونے والا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل کا قیام 1983 میں عمل لایا گیا تھا جس کا مقصد خطے میں کرکٹ کی فروغ اور ایشیائی ممالک کو ایک متحد بلاک بنانا تھا۔ اشرف الحق کے بموجب رکن ممالک کے درمیان فنڈز کی تقسیم کی بدولت کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، لیکن مستقبل میں ممکنہ طور پر یہ ٹورنمنٹس نہیں کھیلے جاسکیں گے، کہا جارہا ہے کہ ٹیمیں آپس میں سیریز کھیلیں اور اسپانسر شپ تلاش کریں لیکن ان میں کتنی ٹیمیں ایسی ہیں جنہیں اسپانسر شپ مل سکتی ہے۔ سال بھر اے سی سی کے زیر اہتمام مختلف کوچنگ، امپائرنگ اور کیوریٹر شپ کورسز بھی جاری رہتے ہیں وہ بھی ختم ہوجائیں گے۔حالیہ برسوں میں ایشین کرکٹ کونسل نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جس میں افغانستان بہت اچھی ٹیم بن کر دنیا کے سامنے آئی ہے جبکہ نیپال نے بھی بہت تھوڑے عرصے میں دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ ہمارا سب سے اہم اور منافع بخش ایونٹ ہے، اس کا انعقاد اے سی سی ہرحال میں ممکن بنانے کی کوشش کریگی کیونکہ آئی سی سی نے 2022 تک کے فیوچر ٹورز پروگرام میں بھی ایشیا کپ کو شامل کیا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمیں ایونٹ کے انتظام کیلئے قانونی مدد چاہئے۔ جب تک آئی سی سی کی سرپرستی حاصل نہیں ہوگی ہم سے کون ایشیا کپ کیلیے اسپانسرشپ کا معاہدہ کرے گا۔