ایران پر نظر رکھنے کیری کا خلیجی ممالک کو تیقن

ریاض ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ ، ایران کی مشرق وسطیٰ کو ’’غیرمستحکم‘‘ کرنے کی کوششوں پر نظر رکھے گا۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے اپنے خلیجی حلیفوں سے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کے بارے میں ان کے اندیشوں کا ازالہ کرتے ہوئے تیقن دیا کہ ایران کو بے لگام نہیں چھوڑا جائے گا۔ جان کیری نے سعودی عرب میں یہ بھی کہا کہ صدر شام بشارالاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے فوجی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر پروگرام پر امریکہ کی بات چیت کے باوجود اسے شام، لبنان، عراق اور جزیرہ نما عرب خاص طور پر یمن میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک امریکہ کی زیرقیادت جہادی گروپ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کرنے میں شامل ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ممالک نے انتہا پسندوں کے خلاف فضائی حملے کئے ہیں۔

امریکہ اس کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں سے امریکہ کو خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ ایک کارکن نے امریکی سفیر برائے جنوبی کوریا کے چہرے کو حملہ کرکے زخمی کردیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا یا کسی بھی ایسے شخص سے جو امریکی سفارت کار کو نقصان پہنچاتا ہے، وہ خوف نہیں کھائے گا۔ ہمارا ارادہ پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہے۔ ہم اپنے ملک کے مفادات کا، عالمی حقوق اور اقدار کا تحفظ کریں گے۔ سفیر امریکہ برائے جنوبی کوریا مارک لیپرڈ کی حالت اب مستحکم ہے۔ ان کے دائیں گال پر گہرا زخم آیا تھا جس کی وجہ سے انہیں 80 ٹانکے لگائے گئے، وہ جزیرہ نمائے کوریا کے اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی سفیر پر حملہ آور ہوا تھا۔ جان کیری نے شخصی وطر پر سفیر سے ربط پیدا کرکے ان کی عاجلانہ صحتیابی کی تمنا ظاہر کی۔