ویانا ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) صدر ایران حسن روحانی آئندہ ماہ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کیلئے روانہ ہوں گے جہاں وہ 2015ء کے ایران نیوکلیئر معاہدہ کیلئے یوروپی تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کی راہ ہموار کریں گے۔ یاد رہیکہ گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس تاریخی نیوکلیئر معاہدہ سے دستبردار ہوگئے تھے اور اس کے بعد اس معاہدہ کا مستقبل غیریقینی کا شکار ہوگیا۔ ٹرمپ نے نہ صرف معاہدہ سے دستبرداری اختیار کی بلکہ انہوں نے ایران پر ایک بار پھر تحدیدات عائد کرنے کا اشارہ بھی دیدیا جس سے ایران میں بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک معاہدہ کے دیگر شراکت دار ممالک یعنی برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کا سوال ہے تو یہ ممالک 2015ء کے اس معاہدہ سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں تاہم ان کیلئے ایک مشکل یہ پیدا ہوگئی ہیکہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں اگر ایران میں اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں تو انہیں (کمپنی) بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف ایران نے واضح کردیا ہیکہ وہ یورینیم افزودگی شروع کرنے والا ہے اور یوروپ کو بھی انتباہ دیدیا ہیکہ اب وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کی جانب سے بھی حسن روحانی کے دورہ کی توثیق کی گئی ہے جس کے مطابق روحانی 2 اور 3 جولائی کو سوئٹزرلینڈ کا دورہ کریں گے اور 4 جولائی کو ویانا پہنچیں گے جہاں دراصل اقوام متحدہ نیوکلیئر نگران کار آئی اے ای اے کا دفتر بھی واقع ہے جو ہمیشہ ایران پر نظر رکھتا ہے کہ ایران معاہدہ کے مطابق عمل کررہا ہے یا نہیں۔