بی جے پی نے فنڈس کے معاملہ میں کانگریس کو پیچھے چھوڑدیا،پارٹیوںکی آڈیٹنگ کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اگزٹ پولس پیش کرنے والے ’’نہایت باریک بینی سے تجزیے پر نوبل انعام کے مستحق‘‘ ہیں، کانگریس نے آج ان الفاظ کے ساتھ پولس پیش کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا جنہوں نے لوک سبھا چناؤ میں اس پارٹی کے ناقص مظاہرہ کی پیش قیاسی کی ہے۔ پارٹی ترجمان ابھیشک سنگھوی نے میڈیاکو بتایا کہ وہ جو ہندوستانی نظام حکومت کی اصلیت کو مختلف جسامت کے نمونوں پر مبنی اگزٹ یا اوپنین پولس کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں ہندوستان جیسے مختلف النوع ملک میں نہایت باریک بینی سے تجزیوں کیلئے نوبل انعام دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے انعام کی بات اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ یہ پولس پیش کرنے والے ایک بلین سے زائد لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو تاڑ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کام کرہ ارض پر ہندوستان جیسے پیچیدہ ترکیب والے ملک میں کیا جارہا ہے ۔
اس دوران کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے آج کہا کہ انہیں لوک سبھا چناؤ کیلئے نریندر مودی کی جنونی اشتہار بازی کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی نے فنڈس کے معاملہ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پارٹی کے کلیدی حکمت ساز لیڈر نے دعویٰ کیا کہ جہاں مودی کی مہم پر مصارف غیر معمولی سطح تک پہنچ گئے وہیں کانگریس کے اخراجات اس کے مقابل حقیر کہے جاسکتے ہیں۔ رمیش نے حالیہ اختتام پذیر چناؤ میں پارٹیوں کی خرچ کی گئی رقم کے سنجیدگی سے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا۔ رمیش نے شکستہ انتخابی خط اعتماد کے تناظر میں سوال پر واضح جواب دینے سے اعتراض کیا کہ آیا پارٹی تیسرے محاذ کی تشکیل حکومت کیلئے تائید کرے گی ۔ انہوں نے بس اتنا کہا کہ کانگریس مستحکم ، سیکولر اور ٹھوس حکومت کیلئے کام کرے گی۔