بھوبھانیشور ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پونزی اسکیم اسکام پر اڈیشہ اسمبلی میں آج مسلسل دوسرے دن بھی کارروائی مفلوج ہوگئی ۔ جب کہ اپوزیشن ارکان ، اسکام میں حکمران بی جے ڈی لیڈروں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور اس مسئلہ پر فی الفور بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آکر احتجاج کیا ۔ اسمبلی کی کارروائی آج صبح شروع ہوتے ہی کانگریس اور بی جے پی ارکان نے نشستوں سے اچانک کھڑے ہوگئے ۔ یہ کارڈس اور بیانرس لہراتے ہوئے نعرے بلند کرنے لگے جس میں یہ تحریر تھا کہ بی جے ڈی حکومت بدعنوان چٹ فنڈ کمپنیوں کے ذریعہ غریب عوام کی رقومات لوٹ رہی ہے ۔ بعض پلے کارڈس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پونزی اسکیم اسکینڈل کی سی بی آئی تحقیقات میں حکمران بی جے ڈی کو بے نقاب کردیا گیا ہے کیوں کہ سی بی آئی نے حکمران جماعت کے بعض لیڈروں کو بھی گرفتار کرلیا ہے ۔ کانگریس ارکان نے نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔
جس کے جواب میں حکمران بیجو جنتادل کے ارکان بھی پلے کارڈس لہراتے ہوئے ایوان کے وسط آکر حالیہ طوفانوں کے متاثرین کے لیے مرکزی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ایوان میں مسلسل شور شورابہ اور ہنگامہ آرائی پر اسپیکر نرنجن پجاری نے کارروائی کو 11-30 بجے تک ملتوی کردیا ۔ ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی اسی طرح کے مناظر پیش آنے پر کارروائی کو 3-00 بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔ ایوان اسمبلی میں شدید احتجاج بی جے پی ارکان نے کیا جن کا الزام تھا کہ پارٹی کی واحد خاتون رکن اسمبلی رادھا رانی پانڈہ کے خلاف وزیر زراعت پردیپ مہارتھی نے غیر پارلیمانی اور فحش الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ انہوں نے اسپیکر کے پوڈیم کے روبرو بیٹھ کر احتجاج کرتے ہوئے وزیر زراعت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ شریمتی رادھا رانی پانڈہ نے ایوان کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہاپترا کے ریمارک قابل اعتراض ہیں اور ان کے غیر شائستہ الفاظ خواتین کے وقار کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اسمبلی میں ایک خاتون رکن اسمبلی کے وقار کا تحفظ نہیں کیا گیا تو ریاست بھر میں خواتین کا کیا حال ہوگا ؟ تاہم وزیر زراعت نے رادھا رانی کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کی تردید کی اور کہا کہ انہیں ممکن ہے کہ غلط گمان ہوگیا ہے۔۔