اپوزیشن جماعتوں کی نائب صدرجمہوریہ سے ملاقات اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی اپیل

نئی دہلی 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس زیرقیادت اپوزیشن جماعتوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نائب صدرجمہوریہ جو راجیہ سبھا کے نائب صدرنشین وینکیا نائیڈو سے ملاقات کرکے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی درخواست کی۔ ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا کے 60 ارکان پارلیمنٹ جن کا سات سیاسی جماعتوں سے تعلق ہے، چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف تحریک مواخذہ کی درخواست کی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ جنھوں نے اس یادداشت پر دستخط کئے ہیں، اِن میں کانگریس، این سی پی، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی، ایس پی اور بی ایس پی شامل ہیں۔ اس سے قبل ان پارٹیوں کے قائدین نے پارلیمنٹ میں اجلاس منعقد کیا اور اس منصوبہ کو قطعیت دی۔ اس اجلاس میں کانگریس قائدین غلام نبی آزاد، کپل سبل اور رندیپ سرجیوالا کے علاوہ سی پی آئی کے ڈی راجہ اور این سی پی لیڈر وندنا چوہان شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے جو پہلے پہل اس تحریک کے حامی تھے، اس میں شرکت نہیں کی۔ یہ تحریک عدم اعتماد جسٹس لویا کی موت کے بارے میں جو سہراب الدین اکاؤنٹر کی انکوائری کررہے تے کہاکہ اُن کی موت طبعی واقع ہوئی ہے۔ ایک دن عبد ہی پیش کی گئی۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس آف انڈیا کی زیرقیادت بنچ نے کیا۔ تحریک عدم اعتماد کی شرائط میں راجیہ سبھا کے کم سے کم 50 ارکان اور لوک سبھا کے 100 ارکان کی تائید ضروری ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی راجیہ سبھا چیرمین کی جانب سے موصول ہونے پر چیرمین اس اپیل کا جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی میرٹ بنیادوں پر اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اگر وہ واقعی یہ اپیل واجبی ہے تو وہ ایک کمیٹی تشکیل دے گا اور اس کمیٹی کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو مواخذہ کو قبول کرے یا پھر رد کردے۔ اگر بالفرض مواخذہ کی درخواست قبول ہوجاتی ہے تو یہ ملک کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہو۔