اپنوں نے ہی ڈوبائی کشتی۔ غیروں میں کہاں دَم تھا

میدک۔/7جون، ( محمد فاروق حسین ) حلقہ اسمبلی میدک سے کانگریس امیدوار و فلم ایکٹریس وجئے شانتی کی حیرت انگیز شکست سے متعلق عوامی حلقوں میں کئی باتیں کی جارہی ہیں۔ سبھی کو یقین تھا کہ ٹی آر ایس امیدوارہ محترمہ ایم پدما دیویندر ریڈی کے مقابلہ میں ٹی آر ایس لہر کے باوجود وجئے شانتی کی کامیابی معمولی اکثریت سے ضرور ہوگی۔ جس طرح نارائن کھیڑ سے پی کشٹا ریڈی ( کانگریس) اور حلقہ ظہیرآباد سے مسز جے گیتا ریڈی نے کامیابی حاصل کی تھی اسی طرح وجئے شانتی بھی کامیاب ہوسکتی ہیں۔ بحیثیت ایم پی میدک وجئے شانتی نے حلقہ لوک سبھا میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کرتے ہوئے کامیاب نقوش چھوڑے ہیں اور وہ صرف اور صرف ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کیلئے سیاسی میدان میں آئی تھیں لیکن انہیں کیوں شکست اٹھانی پڑی، اس کا مختصر سا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے کانگریس امیدوار وجئے شانتی نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد میدک ٹاؤن میں ہی عارضی طور پر قیام کی خواہشمند تھیں لیکن انہیں یہاں مقامی کارکنوں نے تمام ذمہ داری نبھانے کا تیقن دیتے ہوئے انہیں میدک میں قیام کرنے سے روکا۔ وجئے شانتی کا ارادہ تھا کہ دن بھر ٹاؤن اور قریبی منڈلوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے میدک میں قیام کریں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ اہم قائدین سابق ایم ایل اے پی ششی دھر ریڈی، رامائم پیٹ سے تعلق رکھنے والے پی سی سی سکریٹری چودھری پربھات راؤ اور میدک ٹاؤن کے ذی اثر قائدین ٹی چندراپال، کنڈن سریندر گوڑ، چنا شنکرم پیٹ کے اہم ستون سابق زیڈ پی ٹی سی مسٹر جی رمنا صدرنشین زرعی مارکٹنگ کمیٹی کے درمیان تال میل کا فقدان اور ایک دوسرے سے اندرونی خلفشار۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ اقلیتی قائدین کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ روپیہ پیسہ تو وجئے شانتی کا پانی کی طرح استعمال کیا گیا، اقلیتوں کو دور رکھا گیا۔ یہاں تک کہ اردو اخبارات کو اشتہارات کیلئے حاصل کردہ رقم بھی درمیانی افراد نے ہڑپ لی۔ وجئے شانتی کو چاہیئے تھا کہ ہر منڈل میں اور ٹاؤن میں اقلیتی قائدین اور کارکنوں کے علاوہ ٹاؤن کے اردو اخبارات کے نمائندوں سے بات چیت کرتیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس ٹی آر ایس کی امیدوار پدما دیویندر ریڈی کے شوہر سکریٹری ریاستی تلنگانہ ٹی آر ایس پارٹی مسٹر ایم دیویندر ریڈی نے میدک میں قیام کرتے ہوئے تمام قائدین اور کارکنوں میں تال میل پیدا کرتے ہوئے مہم چلائی اور ہر گھڑی میدک میں رہتے ہوئے وہ ٹاؤن اور دیہات کی خبر لیتے رہے۔ لیکن کانگریس میں ایسا نہیں دیکھا گیا۔ اگر ایک دوسرے کو فون کیا جاتا تھا تو صرف آج کتنا روپیہ آیا، کہاں اور کس کی جیب میں گیا ۔ مسٹر پی ششی دھر ریڈی سابق ایم ایل اے ترجمان اعلیٰ ضلع کانگریس نے خود ہی اپنی کے سرکاری امیدوار وجئے شانتی کے خلاف پرچہ نامزدگی داخل کیا اور برائے نام پی سی سی صدر کی ہدایت پروجئے شانتی کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی اور بظاہرمہم میں حصہ لیا لیکن اندرونی طور پر نقصان پہنچایا۔ مسٹر ششی دھر ریڈی نے احساس کرلیا تھا کہ اگر منصفانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی جاتی تو وجئے شانتی منتخب ہوجائیں گی اور ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے ذریعہ اس حلقہ پر ہمیشہ کیلئے قابض ہوجائیں گی۔ اس خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی مہم برائے نام چلائی گئی۔ علاوہ ازیں ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ضلع میدک کے اندول اسمبلی حلقہ پر نائب صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے روح رواں کانگریس پارٹی جناب راہول گاندھی نے انتخابی جلسہ سے خطاب کے دوران اپنا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست کی پہلی وزیر اعلیٰ خاتون ہوگی کہا تھا اور یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس خاتون کا تعلق بی سی طبقہ سے ہوگا۔ اس اعلان پر سارے ضلع کے کانگریس امیدوار حیران ہوگئے اور وزیر اعلیٰ کی کرسی پر نظریں مرکوز کئے بیٹھے سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کی نیند حرام ہوگئی۔ اس کے بعدوجئے شانتی کی نیا ڈوبانے کیلئے کوششیں کی گئیں اور خود ہی راج نرسمہا بھی فلم اسٹار بابو موہن ( ٹی آر ایس ) کے ہاتھوں انتخاب ہار گئے۔ وجئے شانتی اقلیتی ووٹوں کے حصول کیلئے صرف مسٹر محمد حفیظ الدین اور چند بے اثر قائدین پر بھروسہ کئے ہوئے تھیں۔