آٹھویں جماعت میں صرف ایک طالب علم

گورنمنٹ اسکول بودھن کے دورہ پر رکن اسمبلی کا اظہار تعجب
بودھن /20 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رکن اسمبلی جناب محمد شکیل عامر نے ہفتہ کے روز اپنی قیامگاہ کے قریب واقع سرکاری و امدادی مدارس کا دورہ کیا۔ شکر نگر کالونی میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول کے اچانک دورہ پر وہاں انھیں یہ جان کر تعجب ہوا کہ یہاں آٹھویں جماعت میں صرف ایک طالب علم موجود ہے، جب کہ اس اسکول میں چھٹویں تا دہم تمام متوازی جماعتوں اردو اور تلگومیڈیم میں طلبہ کی جملہ تعداد صرف 20 ہے اور اس ہائی اسکول میں 23 اساتذہ برسرخدمت ہیں۔ یہ بوائز ہائی اسکول شکر نگر کا حال ہے۔ اسی اسکول سے متصل گرلز اسکول واقع ہے، یہاں بھی طالبات کی تعداد کم تھی۔ ان دو سرکاری مدارس کے علاوہ امدادی مدرسہ ایک انگریزی میڈیم ہائی اسکول مدھو ملنچہ اور اردو اسکول موجود ہے۔ رکن اسمبلی اپنے اچانک دورہ کے موقع پر دہم جماعت میں داخل ہوئے، جہاں انگریزی کلاس چل رہی تھی۔ انھوں نے ایک طالب علم سے فرنیچر کی اسپیلنگ بتانے کی خواہش کی تو طالب علم نے خاموشی اختیار کرلی، لیکن جب یہی سوال دیگر طلبہ سے کیا تو سب ہی اسپیلنگ بتانے سے قاصر رہے۔ واضح رہے کہ یہ وہ مدرسہ ہے، جہاں سے سیکڑوں طلبہ تعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازمتیں کر رہے ہیں اور ملک و بیرون ملک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی مدرسہ کا فارغ ایک طالب علم آئی پی ایس آفیسر بن کر مرکزی حکومت میں اعلی عہدہ پر فائز ہے۔ جناب شکیل نے اسکول ہذا کی انتظامی کمیٹی کو تبدیل کرنے ایم ای او پدماجہ کو ہدایت دی اور بعد ازاں انھوں نے مدھو ملنچہ ہائی اسکول کا دورہ کیا، جہاں موصوف خود تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اسکول میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم دیکھ کر انھوں نے اساتذہ کی کار کردگی کو بہتر بنانے کی خواہش کی۔ رکن اسمبلی کے ہمراہ اس موقع پر صدر نشین بلدیہ مسٹر ایلیا، ریاستی نائب صدر اقلیتی سیل ٹی آر ایس عبد الرزاق، سنگل ونڈو چیرمین شرد کے علاوہ شاکر حسین اور دیگر بھی موجود ت