آئی سی سی رکنیت پر فلسطینیوں کو امداد نہیں، امریکی دھمکی

یروشلم ۔20 جنوری ۔ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے اگر فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی تو انہیں امریکی امداد کے کروڑوں ڈالرز سے محروم کر دیا جائے گا۔لنڈسے گراہم امریکی سینیٹرز کے سات رکنی وفد کے ساتھ ان دنوں مشرق وسطی کے دورے پر ہیں۔ ان کے اس دورے میں اسرائیل کے علاوہ سعودی عرب اور قطر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے صاف صاف کہا کہ امریکہ آئی سی سی سے رجوع کرنے کی صورت فلسطینیوں کی امداد کم کر دے گا۔مقبوضہ یروشلم میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ’’ اسرائیل کے خلاف آئی سی سی رجوع ہونا ایک دھوکے پر مبنی جارحیت ہے، اس لئے اس پر امریکی ناراضگی کے اظہار کیلئے ہم بھرپور انداز اختیار کریں گے‘‘۔ریپبلکن سینیٹر کے مطابق امریکی قانون میں یہ پہلے سے موجود ہے کہ اگر کوئی آئی سی سی کے سامنے مقدمہ لے کر جائے گا تو اس کی امدادروکی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل اوباما کے زیر قیادت امریکی انتظامیہ کہہ چکی ہے فلسطین ایک خود مختار ریاست نہیں ہے اس لئے آئی سی سی سے رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتی ہے۔امریکہ سے فلسطینی اتھارٹی کو سالانہ چارسو ملین ڈالر کی امداد ملتی ہے۔ اسرائیل پہلے ہی محصولات کی مد میں فلسطینی اتھارٹی کا حصہ بننے والی 120ملین ڈالر کی رقم کی ماہانہ قسط کی ادائیگی روک چکا ہے۔