بھوبنیشور 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اوڈیشہ اسمبلی میں آج زبردست ہنگامہ اور شوروغل دیکھا گیا۔ جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی کردی گئی۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی نے طلباء اور پارٹی کے یوتھ قائدین کے خلاف پولیس کارروائی پر احتجاج کیا۔ پولیس نے چیف منسٹر کے موٹروں کے قافلے کے سامنے سیاہ پرچم مظاہروں اور انڈے پھینکنے کے کیس میں ان کے مبینہ ملوث ہونے پر طلباء کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ایوان میں اس مسئلہ کو اپوزیشن، چیف وہپ نارا پرساد بھینی پتی کانگریس نے وقفہ صفر کے دوران اٹھایا۔ جہاں ان کی پارٹی کے رفقاء نے بھی طلباء اور یوتھ قائدین کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ جب رائے گڈا ڈی ڈبلیو او آفیسر کی خودکشی کا کیس پیش آیا تھا اس وقت متعلقہ ضلع کلکٹر یا پی اے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ انڈوں سے حملہ کرنے کے کیس میں ملوث نے فوری کارروائی کرتے ہوئے طلباء اور کانگریس کے یوتھ قائدین کو نشانہ بنایا ہے۔ ایوان میں احتجاج اور شوروغل کے دوران کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور کارروائی کو روک دیا۔ سرکاری بنچوں کے ارکان نے بھی کانگریس کے ارکان کے اس طرح کے احتجاج کی مخالفت کی۔ اپنے بنچوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگائے۔ ایوان میں مسلسل خلل کو دیکھ کر اسپیکر نے کارروائی شام 5 بجے تک ملتوی کردی۔