اوٹکور میں حالات کو کشیدہ بنانے کی کوشش

اوٹکور۔/27اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گنیش مورتیوں کو بٹھانے سے قبل ہی اوٹکور میں اکثریتی فرقہ کی جانب سے امن کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جناب کے سمپت کمار سب انسپکٹر پولیس نے بتایا کہ اوٹکور میں کل رات 10بجے اکثریتی فرقہ کے نوجوان سنجیو کمار اور اس کے ساتھی نے امن کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ جامع مسجد پنچ کے میدان میں چار یوم سے سرکس کے مختلف آئٹم بتائے جانے پر آخری روز سنجیو کمار اور اس کے ساتھی نے سرکس دیکھنے والے لوگوں کو چھیڑ چھاڑ کی خصوصا مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے عبدالرشید کو مار پیٹ کی اور بعد ازاں مسجد پنچ میں واقع لائٹوں کو توڑا جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

حالات کو قابو میں لانے اور فساد کو روکنے کی غرض سے جناب ناصر خان سابق کونسلر تلگودیشم نے جناب کے سمپت کمار کو فون پر بات چیت کی مگر پولیس تاخیر سے پہنچنے پر دونوں گروپس میں جھگڑا ہوگیا۔ واضح رہے کہ آٹھ روز پہلے ہی سے ملت اسلامیہ ہائی اسکول اور مسجد ایکمینار کے راستہ پر بغیر اجازت کے شرپسندوں نے کٹہ چبوترہ گنیش بٹھانے کی سازش کی تھی۔ مسجد اور مدرسہ کے ذمہ داران نے ڈی ایس پی نارائن پیٹ اور سرکل مکتھل کے علاوہ ایس پی ضلع محبوب نگر اور ضلع کلکٹر کو ایک تحریری یادداشت پیش کی کہ اس کام کو روک دیا جائے مگر شرپسندی مچانے کی غرض سے شرپسندوں نے جامع مسجد کے پاس سرکس ( کھیل ) کا بہانہ کرکے مسلمانوں پر حملہ کیلئے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ مقامی پولیس کے علاوہ دس یوم سے ضلع ایس پی کی ہدایت پر اضافی پولیس کے دستے تعینات ہیں۔ پولیس کی بروقت چوکسی سے حالات قابو میں آگئے۔