حسنی آباد /12 مارچ ( راست ) متصل جامع مسجد حسنی آباد میں منعقدہ کے خواتین کے کثیر اجتماع سے خطاب کریت ہوئے ڈاکٹر مفتیہ رضوانہ زرین پرنسپل و شیخ ا لحدیث جامعہ المومنات نے کہا کہ اولاد کی تربیت و نشونما میں والدین کا اہم رول ہوتا ہے ماں کی محبت و شفقت اولاد کے حق میں ضروری ہے ۔ بچہ دنیا میں آتا ہے تو عمدہ صلاحیتیں ، پاکیزہ ذہن اور اچھی فکر اور صاف و شفاف قلب و نظر لے کر آتا ہے اسلام نے اولاد کو ادب سکھانے اور تعلیم و تربیت پر زور دیا ہے ۔ ماں اولاد کو سدھار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے ۔ اولاد نیک صالح بنانے میں ماں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ محترمہ رضوانہ زرین نے کہا کہ اصلاح معاشرہ کیلئے اپننے نفس کی اصلاح بہت ضروری ہے خود عمل کریں اور دوسروں کو عمل کی ترغیب دیں جس انسان کا نفس اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق رہے گا وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ ڈاکٹر مفتیہ رضوانہ زرین نے کہا کہ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ میں جابجا انسانیت کی اصلاح سے متعلق ہدایات موجود ہیں ۔ اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا مگر اللہ کے ذکر سے اور حدیث شریف میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ جس وقت بندہ میری یاد میں اپنی ہونٹ کو حرکت کرتے ہیں تو اس وقت میں اپنے اس بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ،
محترمہ رضوانہ زرین نے مزید خواتے پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کو ٹی وی کی لعنت سے بچائیں کیونکہ اس دکھائی دینے والے فحش و عریانیت کا بچوں پر برا اثر ہوتا ہے ، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف راغب کریں اور بالخصوص ایسے مدارس میں تعلیم دیں جہاں مخلوط تعلیم نہ دی جاتی ہو ۔ کیونکہ جب مرد اور عورت کا اختلاط ہوتا ہے تو فتنہ و فساد کا باعث ہوتا ہے ۔ جلسہ کا آغاز قرات اور قاریہ ناز محمدی کی نعت شریف سے ہوا ، عالمہ سیدہ غوثیہ شاہد نے کہا کہ نماز اسلام کا دوسرا اور اہم ترین رکن ہے جو پیارے آقا ﷺ کو معراج کی رات تحفہ میں عطا کی گئی جو مومنین پر دن بھر میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے ۔
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا ۔ اگر نماز اچھی ہوتو باقی اعمال بھی اچھے ہوں گے اور اگر نماز خراب ہوتو باقی اعمال بھی خراب ہوں گے ۔ مفتیہ رقیہ فاطمہ معلمہ جامعتہ المومنات نے کہا کہ صحابہ کرام نے حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کیسے تھے تو آپ نے فرمایا کہ آپ کے اخلاق قران تھے ۔ مفتیہ سیدہ فرح ناز ہاشمی نے کہا کہ ہر مسلمان کو ضرورت کے مطابق کے علم سیکھنا فرض عین ہے علم انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم علم حاصل کرو محد سے لحد تک ۔ عالمہ سمیرہ خاتون نے کہا کہ یوں تو اللہ تعالی کی 104 کتابیں نازل ہوئیں لیکن کوئی کتاب اپنی اصلی حالت پر برقرار نہیں لیکن قرآن مجید میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ کیونکہ اللہ تعالی خود اسکی حفاظت کا ذمہ لیا اور فرمایا کہ ’’ ہم نے اسکو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘‘۔