…….اور سچن جب بچوں کی طرح رو پڑے تھے

نئی دہلی 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) افسانوی کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے آج یاد دلایا کہ 1999میں پاکستان کے خلاف چینائی کرکٹ ٹسٹ میچ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی صحیح رہنمائی میں اپنی ناکامی پر وہ بچوں کی طرح رو پڑے تھے ۔ انہوں نے اس وقت پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کی ناکامی کو وہ ایک عظیم نقصان تصور کرتے تھے ۔ سچن تنڈولکر نے جو جمعہ کو یہاں ’’انڈیا ٹوڈے کانکلیو‘‘ میں ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے کہا کہ ’’ایک اور افسوس بھی ضرور رہے گا جب 1998-99 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ہم چینائی میں کھیل رہے تھے ۔ ہمیں 12 رن سے شکست ہوگئی تھی۔ میں سنچری بنا چکا تھا ۔ ہم فتح کے راستہ پر گامزن تھے ۔ چار وکٹ ہمارے پاس تھے۔ میں سنچری بنا چکا تھا لیکن میں آوٹ ہوگیا اور ہم میچ ہار گئے تھے‘‘۔سچن نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کے خلاف کھیل فتح ہونے کے بعد چینائی کے ڈریسنگ روم میں میں بچوں کی طرح رو پڑا اور ’مین آف دی میچ‘ ایوارڈ حاصل کرنے کیلئے باہر نہیں نکل سکا تھا ۔ یہ میرے لئے ایک سب سے بڑا افسوس تھا اب میں محسوس کرتا ہوں کرتا ہوں کہ مجھے اپنے جذبات پر قابو پانا چاہتے تھا اور ایوارڈ لینے کیلئے جانا چاہئے تھا‘‘۔ سچن تنڈولکر جو دنیا بھر میں کئی نوجوانوں کیلئے ایک رول ماڈل ہیں کہا کہ سخت محنت کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’’شارٹ کٹس ‘‘ سے گریز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سخت محنت کرنا پرا تھا۔ عام کامیاب افراد سخت محنت کیا کرتے ہیں۔ کوئی چیز آسانی سے حاصل نہیں ہوتی‘‘۔