اورنگ آباد اور نوی ممبئی کے بلدی انتخابات پر تجسس

ممبئی۔/14اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) نوی ممبئی اور اورنگ آباد میں 22اپریل کے میونسپل انتخابات حکمراں بی جے پی۔ شیوسینا کیلئے تیزابی آزمائش ثابت ہوں گے جو کہ مہاراشٹرا میں 15سال کے عرصہ کے بعد اقتدار میں ساجھیدار ہیں ۔ شیوسینا کے مضبوط قلعہ اورنگ آباد اور این سی پی لیڈر گنیش نائیک کے طاقتور گڑھ نوی ممبئی کے بلدی انتخابات کے نتائج مہاراشٹرا میں سال 2017 کے اوائل میں 10بڑے شہروں بشمول ممبئی کے میونسپل الیکشن کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

جبکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ایشیا کا دولتمند شہری ادارہ ہے اور اس کا بجٹ کیرالا جیسی ریاست سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال اکٹوبر میں اسمبلی انتخابات کے موقع پر تلخیوں کے باوجود شیوسینا نے بعد ازاں بی جے پی حکومت میں شمولیت اختیار کرلی اور اورنگ آباد میونسپل انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے مفاہمت کرلی ہے۔ تاہم یہ زعفرانی اتحاد نوی ممبئی کے این سی پی کے طاقتور لیڈر گنیش نائیک کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی کوشش میں ہے اور دونوں شہروں میں بی جے پی اور شیوسینا اپنی اطاقت از سر نو مضبوط بنانا چاہتی ہیں جبکہ بلدی انتخابات میں این سی پی اور کانگریس آزادانہ مقابلہ کررہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 113رکنی اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی سے اتحاد کرتے ہوئے شیوسینا بہ آسانی جیت جائے گی کیونکہ مجلس اتحادالمسلمین کا وجود بھی زعفرانی اتحاد کے حق میں کارگر ثابت ہورہا ہے۔ تاہم ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ پر مجلس میں داخلی رسہ کشی سے کانگریس بھی فائدہ اٹھاسکتی ہے۔ اورنگ آباد میں 25سے زائد مسلم اکثریتی حلقے (وارڈس) ہیں جبکہ حال ہی میں وارڈس کی تعداد 99سے 113 کردی گئی ہے۔ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں 1988 سے شیوسینا ۔ بی جے پی اتحاد برسراقتدار ہے اور گزشتہ 25سال سے اورنگ آباد لوک سبھا حلقہ پر شیوسینا کا قبضہ ہے لیکن تین اسمبلی نشستوں پر بی جے پی کامیاب ہوتی رہی ہے

جبکہ شیوسینا اور مجلس نے ایک، ایک پر جیت حاصل کی ہے۔ تاہم گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے سینئر لیڈر راجندر دروا کو بی جے پی شکست دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور شیوسینا میں اختلافات کے باوجود مقامی قیادت کے دباؤ سے انتخابی مفاہمت کی بئی ہے اور بی جے پی کے ریاستی صدر راؤ صاحب راؤ پاٹل جن کا تعلق جالنہ سے ہے پارٹی میں اتحاد کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے مفاہمت کی کامیاب کوشش کی ۔ گوکہ شیوسینا قائدین اتحاد کے حق میں نہیں ۔ انتخابی مفاہمت کے مطابق بی جے پی 49نشستوں اور شیوسینا 41نشستوں پر مقابلہ کررہی ہے اور 2نشستیں آر پی آئی کیلئے مختص کی گئیں جبکہ مسلم اکثریتی حلقوں میں مقابلہ سے گریز کیا گیا ہے۔ تاہم سابق میں کانگریس کے 19کارپوریٹرس تھے لیکن وہ آئندہ کامیابی کیلئے مجلس میں داخلی خلفشار سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے۔ دوسری طرف نوی ممبئی میں وارڈس کی تعداد میں 89 سے 11تک اضافہ کردیا گیا ہے ۔ ممبئی کے مضافات میں واقع یہ علاقہ پولٹیکل لینڈ اسکیپ ( سیاسی سبزہ زار ) تصور کیا جاتا ہے

جہاں پر گزشتہ 15سال سے گنیش نائیک کا غلبہ ہے۔وہ شیوسینا کے سابق لیڈر ہیں اور این سی پی میں شمولیت کے باوجود نوی ممبئی پر اپنا دبدبہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ نوی ممبئی میونسپل کمشنر وجئے نہتا نے وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد شیوسینا میں شمولیت اختیار کی ہے اور اب پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہیں نے مبینہ کرپشن پر نائیک اور ان کے افراد خاندان کو مسلسل نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کی مہم کے نتیجہ میں گنیش کے فرزند سنجیو نائیک کو تھانہ لوک سبھا سیٹ سے شکست ہوگئی تھی۔ گنیش نائیک کو بھی بیلا پور اسمبلی حلقہ سے سابق این سی پی لیڈر منڈا مہاترے نے بی جے پی امیدوار کی حیثیت سے شکست دے دی تھی۔ تاہم گنیش کے ایک اور فرزند سندیپ نے ایرولی اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ تاہم نوی ممبئی پر اپنا تسلط برقرار کھنے کیلئے گنیش نائیک نے انتخابی حکمت عملی تبدیل کردی اور میونسپل انتخابات کیلئے افراد خاندان کو دور رکھا ہے اور این سی پی امیدوار کی انتخابی مہم میں وہ خود سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ممبئی اور تھانہ میں برسر اقتدار شیوسینا کی ناقص کارکردگی کو تنقیدکا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ میونسپل انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض شیوسینا کے باغی قائدین بھی این سی پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ جبکہ ناراضگیوں اور بغاوتوں سے دوچار بی جے پی کا بھی برا حال ہے اور عوام میں مقبولیت متاثر دکھائی دے رہی ہے۔