انہدامی کارروائی سے بے قصور وں کو نقصان

بنگلور میں متاثرین کو مفت مکانات دینے چیف منسٹر سے مطالبہ
گلبرگہ۔23مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)شہر بنگلور اور آس پاس کے علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چلائی گئی انہدامی مہم کے دوران اپنے مکانات گنوانے والے افراد کو ریاستی حکومت کی طرف سے بی ڈی اے کی طرف سے تعمیر کئے جارہے مکانات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مفت دئے جائیں۔ یہ گذارش آج بنگلور ضلع انچارج وزیر رام لنگا ریڈی نے وزیراعلیٰ سدرامیا سے کی۔ مسٹر ریڈی نے آج اخباری نمائندوں کو بتایاکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے اس سلسلے میں اپنی طرف سے ایک عرض داشت پیش کی اور کہاکہ جن علاقوں میں انہدامی کارروائی کی گئی ہے وہاں مقیم لوگوں نے اپنی زندگی کا سارا سرمایہ صرف کرکے مکانات تعمیر کروائے تھے۔ انہدامی کارروائی دراصل ان لوگوں کیلئے ناکردہ گناہوں کی سزا ثابت ہوئی ہے۔اسی لئے انہوںنے ریاستی حکومت سے گذارش کی ہے کہ جو بے قصور لوگ ضلعی انتظامیہ کی اس انہدامی کارروائی کا شکار ہوئے ہیں ان کے ساتھ انسانی ہمدردی کا سلوک کیاجائے۔ بی ڈی اے کی طرف سے شہر کے اطراف واکناف جو عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں ان میں ان لوگوں کو مفت مکانات دئے جائیں۔ مکان کا رقبہ کیا ہو یافیصلہ وزیراعلیٰ کو خود کرنا چاہئے۔ مسٹر ریڈی نے کہاکہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے یہ رپورٹ طلب کی جائے کہ انہدامی کارروائی میں کتنے لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر مکانات تقسیم کئے جائیں۔ تالابوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والے وہ لوگ نہیں جو یہاں پر مکانات تعمیر کرکے مقیم تھے بلکہ یہ لوگ بھی حکومت کی طرح بڑے بڑے بلڈروں سے دھوکہ کھانے والوں میں شامل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان بڑے بلڈروں پر کارروائی کرے جنہوں نے غیر قانونی طور پر سرکا ری تالابوں پر قبضہ کیاتھا۔ ساتھ ہی سرکاری زمینات پر قبضہ کرنے میں ان بلڈروں کا ساتھ دینے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ انہدامی کارروائی کے بعد ضلعی انتظامیہ کے متعلق شہریان بنگلور میں شدید برہمی پائی جارہی ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بے گھر افراد کو بی ڈی اے کے مکانات فراہم کرنے کی گذارش کی گئی ہے۔