انگلینڈ 68 برس بعد پہلے راؤنڈ سے باہر

ریسیف (برازیل ) 21جون ( سیاست ڈاٹ کام ) برازیل میں رواں ورلڈ کپ 2014 میں حیران کن نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور دفاعی چیمپئن اسپین کے بعد خطاب کی ایک اور دعویدار ٹیم انگلینڈ کا سفر تمام ہوگیا ہے اور 68 برس بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلش ٹیم پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔اس سے قبل 1958 کے ورلڈ کپ میں انگلش ٹیم گروپ مرحلے میںہی دم توڑ چکی تھی۔2014 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو ابتدائی دونوں مقابلوں میں شکست کے بعد ٹورنمنٹ میں اس کی بقا کا دارومدار اٹلی کی اس کے باقی دونوں میچوں میں فتح پر تھا۔تاہم ایکواڈور کے خلاف شکست نے جہاں خود اٹلی کی اگلے مرحلے میں رسائی نسبتاً مشکل بنا دی ہے وہیں انگلینڈ کے لیے صرف گھر واپسی کا راستہ باقی رہ گیا۔ایسا بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انگلینڈ نے فٹبال ورلڈ کپ میں اپنے ابتدائی دونوں میچ ہارے ہیں۔اٹلی کے خلاف شکست کے باوجود انگلش ٹیم کی اس میچ میں کارکردگی کو سراہا گیا تھا لیکن یوروگوائے کے خلاف یہی ٹیم مسلسل غلطیاں کرتی دکھائی دی

جس کا نتیجہ حریف کھلاڑی لوئس سواریز کے دو گولوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔انگلش فٹبال ٹیم کے سابق دفاعی کھلاڑی ریو فرڈینینڈ کے بموجب انگلینڈ کی شکست کی وجہ تجربے کی کمی رہی لیکن ان کے خیال میں یہ ٹورنمنٹ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کا بہترین موقع ثابت ہوا۔ انگلش فٹبال ٹیم نے ورلڈ کپ میں آگے بڑھنے کے خواب کو ریو میں اپنے ہوٹل میں بیٹھ کر چکناچور ہوتے دیکھا۔اس بدترین کارکردگی کے باوجود انگلش ٹیم کے کوچ روائے ہوجسن نے مستعفی ہونے سے انکار کیا ہے اور انگلینڈ کی فٹبال اسوسی ایشن کے چیئرمین گریگ ڈائیک نے بھی کہا ہے کہ ہوجسن کی ملازمت کو کوئی خطرہ نہیں۔مقابلے سے قبل ڈائیک کا کہنا تھا کہ ہم روائے کے ساتھ ہیں۔ وہ چار برس کے لئے آئے تھے اور میں لوگوں کو یہ سوال کرتے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کیا ٹھہریں گے تو اس کا جواب ہے ، ہاں وہیں یہیں ہیں۔