میرپور ۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں رواں ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف کھلاڑیوں کی حکمت عملی ان دنوں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے ٹریننگ میں استعمال کئے جانے والے ’’نصف بیاٹ‘‘ اور ’’عربک ٹاٹو‘‘ نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ انگلش ٹیم کے بیٹنگ کوچ گریم تھارپ نے حالانکہ ٹیم میں ماہر اسپنر کی موجودگی سے نقصان کو مسترد کردیا ہے لیکن انہوں نے ٹورنمنٹ میں چونکہ اسپنرس کا غلبہ ہوسکتا ہے اور اسپنرس کے خلاف کھلاڑیوں کو بہتر مظاہرہ کرنے کے لئے ٹریننگ کا اختراعی انداز اختیار کررکھا ہے، جس کے تحت وہ بیٹسمنوں کو پریکٹس کے دوران نصف بیاٹ فراہم کررہے ہیں۔ یہ بیاٹ اپنی لمبائی میں تو روایتی بیاٹ کے برابر ہے لیکن اس کی چوڑائی کو نصف کردیا گیا ہے تاکہ بیٹسمین ، اسپنرس کی جانب سے پھینکی جانے والی گیند کے قریب پہونچتے ہوئے اپنے بیاٹ کے درمیانی حصے سے کھیل سکیں۔ انگلش ٹیم کے اوپنر الیکس ہالس جن کی سیدھی کلائی پر عربی زبان کا ٹاٹو ہے جس کے معنی ’’ہمت‘‘ ہے اور یہ ٹاٹو بھی میڈیا نمائندوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروارہا ہے۔