ریاض ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عہدیداروں نے ایک انڈونیشیائی خادمہ کا سر قلم کردیا جبکہ اس پر جنسی ہراسانی اور بے رحمی سے انڈونیشیائی گھریلو خادمہ کے قتل کا الزام ثابت ہوگیا۔ شیآ القحطانی کو اپنی گھریلو ملازمہ کو بید کی چھڑی سے زدوکوب کرنے اور ابلتا ہوا تیل اس پر اڈلنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ وزارت داخلہ کے بموجب جنوب مغربی صوبہ ابہا میں اس کا سر قلم کردیا گیا۔ یہ جاریہ سال سعودی عرب میں 63 ویں سزائے موت تھی۔ 2014ء میں 87 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کو سزائے موت کی تعداد میں ہولناک اضافہ قرار دیا ہے۔ لندن کے انسانی حقوق گروپ نے کہا کہ گذشتہ سال سزائے موت کے اعتبار سے سعودی عرب دنیا بھر میں سرفہرست تھا۔