٭٭جنتا پریوار کی مختلف پارٹیوں کے انضمام پر تنقید کا نشانہ بنے ہوئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج کہا کہ نئی سیاسی تنظیم میں انضمام سے متعلق تمام رسمی کارروائیوں کی تکمیل نئی تنظیم کے صدر ملائم سنگھ یادو مکمل کریں گے ۔ نئی سیاسی تنظیم کے پرچم اور انتخابی نشان کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ ملائم سنگھ یادو کو نئی سیاسی تنظیم جو جنتا پریوار ارکان کے انضمام سے عمل میں آئی ہے ‘صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ نتیش کمار نے پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہی تمام رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے ذمہ دار ہیں ۔ اپوزیشن بی جے پی نے جنتا پریوار ارکان کا مذاق اڑایا ہے کہ انہوں نے عجلت میں انضمام کا اعلان کردیا جبکہ نئی تنظیم کے پرچم اور انتخابی نشان کا فیصلہ ہنوز نہیں کیا گیا ہے ۔ جنتا پریوار کی چھ مختلف شاخوں کا انضمام 15 اپریل کو عمل میںآیا ہے اور انہوں نے بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک متحدہ سیاسی پارٹی قائم کی ہے ۔ خاص طور پر بہار میں جاریہ سال کے اواخر میں مقرر اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس انضمام کی نمایاں اہمیت ہے ۔ یو پی اور بہار میں برسر اقتدار سماج وادی پارٹی اور جے ڈی (یو )آر جے ڈی ‘آئی این ایل ڈی ‘ جے ڈی (ایس ) اور سماجوادی جنتا پارٹی نے فیصلہ کیا کہ 15 اپریل کو منعقدہ اجلاس میں رسمی طور پر انضمام عمل میں لایا جائے۔ یہ اجلاس سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو کی قیام گاہ پر منعقد کیا گیا تھا جنہیں نئی تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔ انہیں اختیارات دیئے گئے ہیں کہ پرچم اور انتخابی نشان جیسے معاملات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے ۔ انضمام تقریبا 20 سال بعد عمل میں آیا ہے ۔ 1990 کی دہائی میں جنتا دل منتشر ہوگیا تھا اور اس کے مختلف قائدین نے مختلف سیاسی پارٹیاں قائم کرلی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار 17 سال تک بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ بہار میں جے ڈی یو زیر قیادت مخلوط حکومت کے چیف منسٹر تھے ۔ اس مخلوط حکومت میں بی جے پی بھی شامل تھی۔