کریم نگر ۔11 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) دوشنبہ 10 مارچ 2014ء اخبار سیاست کے صفحہ آخر پر شائع خبر ’’ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا انتخابی سیاست سے سبکدوشی، باقی ماندہ زندگی ملت کیلئے وقف‘‘ پڑھ کر انتہائی مسرت کا احساس ہوا اور تعجب بھی ، اس لئے کہ ملت اسلامیہ کی بہبود ، سدھار کا جذبہ تو ایڈیٹر سیاست کے دل و دماغ میں اس وقت سے گھر کرنا شروع کیا تھا جب اخبار سیاست ، بقول قارئین کہ ’’اسلام قبول کرلیا تھا‘‘۔ اخبار سیاست صرف اخبار ہی نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے۔
اخبار سیاست کا مختلف شعبہ حیات میں عمل دخل ہوچکا ہے۔ تعلیمی، سماجی، معاشی، طبی، فنی ملازمتوں کے متعلق اخبار سیاست مختلف خدمات انجام دے رہا ہے، اس کا سبھی کو علم ہے۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ایک ملاقات میں جب سیاسی میدان میں آنے کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا تو میں نے اُس وقت ہی یہ کہا تھا کہ آپ اُس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بڑے بڑے سیاست داں کو آنے کیلئے اجازت طلب کرنی پڑتی ہے ۔ راج شیکھر ریڈی ہو کہ چندرا بابو نائیڈو یا کوئی اور بڑا لیڈر اپنی کرسی کی سلامتی اور اقتدار کیلئے ان کو آپ کے تعاون اور سہارا کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ آپ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میدان سیاست میں آپ جیسے اعلیٰ کردار کے شخص کو کامیابی نہیں ملے گی ۔ خیر! آخر کار زاہد صاحب نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے ،ابھی بہت وقت ہے سوچنے کیلئے ۔ زاہد صاحب ،بقول مشہور و معروف پاکستانی صحافی محمود شام کہ زاہد علی خاں سیاست کرتے نہیں بلکہ سیاست نکالتے (شائع )ہیں۔
عملی سیاست میں صبح سے شام تک صحیح کو جھوٹ اور جھوٹ کو صحیح کہنا پڑتا ہے۔ یہ کس طرح کا دلدل ہے۔ اس سے باہر نکلنا بہت مشکل ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ سیاست میں ایک مرتبہ داخل ہوکر اس سے دوری اختیار کرنا بہت ہی کٹھن فیصلہ ہے اور اس پر قائم رہنا بھی ایک کارنامہ ہوگا۔ اب مسلمانوں کو بالخصوص سیاست سے وابستہ سبھی کو اور اخبار سیاست کے قارئین کو شکریہ ادا کرنا چاہئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر بارگاہ الٰہی میں دعا کرنے کی ضرورت ہے کہ رب العالمین کی مدد اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل میں جناب زاہد علی خاں نے باقی ماندہ زندگی جس طرح سے گزارنے کا ارادہ کرلیا ہے ، اس میں ان کو ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے۔آمین