انتخابی سیاست سے جناب زاہد علی خان کی سبکدوشی

محبوب نگر /17 مارچ ( اسٹیٹ سماچار ) حیدرآباد دکن کی باوقار پارلیمانی نشست کیلئے اردو کے نامور و قومی روزنامہ سیاست کے مدیر اعلی نواب میر زاہد علی خان کی انتخابی منظر نامہ سے دستبرداری کے فیصلے پر محبوب نگر اور نارائن پیٹ کے علمائے کرام و حفاظ حضرات نے دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ۔ علمائے کرام نے کہاکہ مدیر اعلی روزنامہ سیاست نے انتخابی سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ کرکے مسلم اتحاد کے فروغ کی سمت پیش قدمی کی ہے ۔

ان کے اس فیصلے سے انتشار کے خاتمہ میں غیر معمولی مدد ملے گی ۔ آج ملکی سطح کے حالات اسلام اور مسلمانوں کے مخالف ہیں ۔ ان حالات میں آپسی اتحاد ، بھائی چارگی اور اخوت کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کو اپنے امیدواروں کو قانون ساز اداروں میں پہونچانے کیلئے اسی طرح کے مثالی اقدامات کرتے ہوئے قومی سطح پر ملی اتحاد کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نواب عامر علی خان سے علمائے کرام کے نمائندہ وفد نے ملاقات کرتے ہوئے ان کے والد ماجد کی جانب سے حیدرآبادی پارلیمانی نشست سے دستبرداری کو مثالی اور مستحسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدیر اعلی روزنامہ سیاست کی عزت و وقار میں عالمی سطح پر نمایاں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نواب زاہد علی خان کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے بلدی / مجالس مقامی اور عام انتخابات میں مسلم امیدوار ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کریں اور ملت اسلامیہ کی سربلندی کیلئے اللہ جل مجدہ اور رسول مقبول ﷺ کی رضا کیلئے اپنی انا کو نظر انداز کردیں ۔ طاقتور اور موزوں امیدواروں کے حق میں دستبردار ہوجائیں ۔ اس طرح کے فیصلوں سے ہی مسلمان سرخرو ہوسکتے ہیں ۔ معتمد عمومی کل ہند جمعیتہ المشائخ شاخ ضلع محبوب نگر ،محمد محسن پاشاہ قادری نقشبندی ، مولانا حافظ محمد افسر الدین نقشبندی ، مولانا حافظ محمد چاند پاشاہ قادری ، مولانا حافظ محمد صدام حسین نظامی اور جناب محمد شاہد قادری نے نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان سے ملاقات کرنے والوں میں شامل ہیں ۔