عوامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے نزاعی مسائل پر حکومت کی توجہ : سی پی ایم کا الزام
نئی دہلی 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک میں حالیہ لوک سبھا انتخابات کا عمل ختم ہونے کے بعد سے زائد از ایک درجن فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اور این ڈی اے حکومت کی جانب سے تقسیم کو ہوا دینے والے مسائل جیسے جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے دستور ہند کے دفعہ 370 کو حذف کرنے جیسے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سی پی ایم نے آج یہ بات کہی ۔ پارٹی جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو امید ہے کہ حکومت انتہائی سنگین مسائل جیسے قیمتوں میں اضافہ ‘ بیروزگاری ‘ زرعی مسائل اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم جیسے مسائل کو حل کیا جائیگا تاہم بی جے پی زیر قیادت حکومت ایسا لگتا ہے کہ سماج میں تفرقہ ڈالنے والے مسائل اٹھانے میں دلچسپی دکھا رہی ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ایک وزیر کی جانب سے دستور کے دفعہ 370 کو حذف کرنے کی بات کہی گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں سنگین اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے نتیجہ میں جموں و کشمیر کے عوام خود کو مزید یکا و تنہا محسوس کرینگے ۔ سی پی ایم لیڈر نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں کیا جانا چاہئے جس کے نتیجہ میں جموں و کشمیر کو ملنے والے خصوصی موقف کو ختم کیا جاسکے ۔ جب ریاست کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کیا گیا اس وقت وہاں کے عوام سے یہ وعدہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے لوک سبھا انتخابات ختم ہوئے ہیں اس وقت سے ملک بھر میں 12 سے زیادہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ یہ واقعات گجرات ‘ مہاراشٹرا ‘ اتر پردیش ‘ کرناٹک اور دوسرے مقامات پر پیش آئے ہیں۔ ایک نوجوان مسلمان آئی ٹی پروفیشنل کو ہندو راشٹر سینا سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہلاک کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کامیابی کے جوش میں فرقہ وارانہ واقعات پیش آ رہے ہیں اور ان میں عموما اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اقلیتی برادری کو ہر طرح کی فرقہ پرستی سے بچانے کیلئے جدوجہد کریگی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ سیاسی عزم کی کمی ہے کہ اس طرح کے حملوں کو روکنے کیلئے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش ‘ راجستھان ‘ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں یہ واقعات پیش آ رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی خواتین پر حملوں کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ معاشی محاذ کے تعلق سے مسٹر پرکاش کرت نے کہا کہ حکومت دفاعی پیداوار اور دوسرے شعبہ جات جیسے انشورنس میں بھی راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی کوششیں کر رہی ہے حکومت ماحولیات کو نظر انداز کرکے کئی کانکنی پراجیکٹس کو منظوری دینے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ ان کی پارٹی سی پی ایم اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے ۔