سری نگر ، 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہوکر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے جنید عظیم متو کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ سے ریاست کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات غریب غرباء کے لئے ہیں۔ جنید متو جو ریاست کی سب سے پرانی جماعت نیشنل کانفرنس میں ترجمان کے عہدے پر فائز تھے ، نے بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں کو بتایا ‘اگر میں نیشنل کانفرنس کے فیصلے سے مطمئن ہوتا تو مستعفی ہوکر انتخابات نہیں لڑتا۔ بائیکاٹ کرنے سے ریاست کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے ۔ جب جب بائیکاٹ کیا گیا ریاست کا نقصان ہی ہوا ہے ۔ کوئی حادثاتی لیڈرشپ جنم نہ لے ، یہ کوشش ہونی چاہیے ۔ صرف بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیوں؟ یہ غریب غرباء کے انتخابات ہیں۔ آگے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات بھی ہیں۔ اگر یہ بائیکاٹ دفعہ 35 اے کے لئے ، تو اُن کا اِن انتخابات کے لئے بھی یہی لائحہ عمل ہونا چاہیے ‘۔ انہوں نے کہا ‘دفعہ 35 اے ایسا معاملہ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ اور دفعہ 35 اے کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے ‘۔ جنید متو نے 25 ستمبر کو اپنے تین سلسلہ وار ٹویٹس میں نیشنل کانفرنس کے بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جنید متو نے چند برس قبل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس چھوڑ کر نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے مبینہ طور پر سری نگر میونسپل کارپوریشن کے چار بلدیاتی حلقوں کے لئے بحیثیت آزاد امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کئے ہیں۔