سدی پیٹ۔/12مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی کو کامیاب بنانے سے خاندانی حکمرانی چلے گی۔ بی جے پی ریاستی کوکنوینر این نروتم ریڈی نے کل پریس کلب سدی پیٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹی آر ایس پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تعمیر نو اور ترقی ٹی آر ایس سے ممکن نہیں۔ کے سی آر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 15 ایم پیز کو کامیاب بناکر پارلیمنٹ میں بھیجنے پر مرکز سے اپنا لوہا منواکر فنڈس حاصل کرنے کا خواب مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ کی ترقی و تعمیر نو کو اولین ترجیح دینے کی باتیں کررہے ہیں جو ان سے ممکن نہیں بلکہ وہ اولین ترجیح اپنے خاندان کو دیں گے۔ نروتم ریڈی نے کہا کہ گجرات کے وزیر برہما چاری نریندر مودی نے گجرات کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ گجرات کو ہر پہلو سے ترقی یافتہ خوبصورت شہر بنایا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر واقعی کے سی آر کو تلنگانہ سے محبت و دلچسپی ہو تو وہ اکیلے ہی اس ریاست کو ایک ماڈل ریاست بناکر بنائیں۔ نروتم ریڈی نے کہا کہ سری کانت چاری نے علحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے جان قربان کردی تب ہی تلنگانہ تحریک زور پکڑی اور چار کروڑ عوام، ملازم سرکار اور تمام سیاسی پارٹیاں علحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے میدان میں اتریں اور جدوجہد، جان توڑ کوششوں کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی تائید نہ کرتی تو تلنگانہ ریاست وجود میں نہیں آتی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حقائق کو جان کر انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت سے کامیابی سے ہمکنار کریں تاکہ تلنگانہ ترقی کی طرف گامزن رہے۔ ڈسٹرکٹ وائس پریسیڈنٹ گنڈلہ جناردھن نے بھی خطاب کیا۔