سوریا پیٹ ۔ 17 ۔ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عوام کے تعاون سے اور ٹی آر ایس بالخصوص سربراہ ٹی آر ایس کے چندرشیکھرراؤ کی جدوجہد کا ثمرہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار حلقہ اسمبلی سوریا پیٹ کے امیدوار جگدیشور ریڈی نے سیتارام پور میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جدید ریاست تلنگانہ کی ترقی ٹی آر ایس کی قیادت میں ہی ممکن ہے کیونکہ ٹی آر ایس تلنگانہ کاز کیلئے ہی قائم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کی ترقی کیلئے ٹی آر ایس کو اقتدار ملنا ضروری ہے انہوں نے کانگریس پریشد یہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت نوجوان اپنی قیمتی جانوں کی قربانی پیش کررہے تھے اس وقت کانگریس نے تلنگانہ نہیں دیا اور عین انتخابات سے قبل اپنے مفادات کے حصول کیلئے تلنگانہ تشکیل دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے آخری لمحہ تک بھی تلنگانہ بل کو روکنے کی کوشش کی اور اب اپنے آپ کو دونوں علاقوں کا مسیحا قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی قیادت میں تمام طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کوئی ٹھوس اور منظم کام انجام نہیں دیئے جس کی وجہ سے ریاست جمود کا شکار ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ میں عوام کو صاف شفاف پانی میسر نہیں ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے ایسے میں عوام پینے کا پانی بھی خرید کر پی رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح حلقہ میں عوام کو صاف شفاف پانی کی سربراہی اور بے گھر افراد کو گھر کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ اس موق پر جگدیشور ریڈی نے عوام سے اپی لکی کہ وہ علاقہ سے مخالف تلنگانہ جماعتوں کا صفایہ کردیں اور غداران تلنگانہ کو سابق سکھانے کیلئے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ استعمال کرتے ہوئے ان کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں اس موقع پر این سرینواس ، سرینواس گوڑ ، مستان طاہر و عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔