نئی دہلی 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ کو صدر بی جے پی بنائے جانے کے بعد قومی سطح پر سیکولر یا امن پسند ہندوؤں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ امیت شاہ گجرات ماڈل کا ملک بھر میں تجربہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ بی جے پی کے ماضی کو دیکھیں تو امیت شاہ پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے مناسب نہیں۔ ہندووں کوتشدد کے لئے اُکسانے کی ان کی عادت خطرناک ہے ۔
روایتی طور پر ہندو عدم تشد کے پرستار ہوتے ہیں مگر بی جے پی نے تشدد کا راستہ اختیار کرکے ہندو طبقہ کو ذہنی طور پر تشدد کیلئے تیار کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا ہے۔ امیت شاہ کو پارٹی کا صدر بنانے کا مقصد قوم کو خطرات کی آگ میں جھونکنا ہے ۔ اس لئے امیت شاہ پرپارٹی کے لئے بہتر اور قوم کیلئے خطرناک ہیں یووک کرانتی دل کے بانی کمار سیتا رشی نے یہ بات بتائی ۔ کانگریس پارٹی کے ایک ورکر وویک گھاٹے نے کہا کہ بی جے پی کے قول اور فعل میں کافی فرق پایا جاتا ہے اور ہم نے بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد یہ دیکھ لیا ہے ۔ امیت شاہ گجرات میںداخل ہونے پر پابندی لگانے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی بی جے پی نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کیا ہے تو کیا یہی ترقیاتی ماڈل ہے جس پر بی جے پی عمل کرنا چاہتی ہے ۔ اس طرح کے اقدام سے پارٹی یہ مثال قائم کرنا چاہتی ہے کہ اگر آپ مجرم ہیں تو اس طرح کے عہدہ کے لئے اہل ہیں ۔ اگر نریندر مودی اس طرز کی حکومت چلائیں گے تو وہ آئندہ انتخابات میں اقتدار پر نہیں آئیں گے ۔
وویک گیتے نے کہا کہ بی جے پی کیلئے امیت شاہ موزوں نہیں ہیں۔ راجناتھ سنگھ ایک اچھے لیڈر ہیں انہوں نے اپنے اصولوں کو کبھی ترک نہیں کیا اور وہ کرپٹ بھی نہیں ہیں۔ بی جے پی کے امیت شاہ کو صدر بناکر ایک مجرم کو بھاری ذمہ داری دی ہے اس کا مطلب قومی پارٹی کو ایک مجرم عزیز ہے اس کا مجرمانہ ریکارڈ اس کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتا تو پھر بہت خراب تبدیلی ہے ۔ بی جے پی نے آر ایس ایس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے یہ سب کچھ کیا ہے۔امیت شاہ اور نریندر مودی کی شراکت داری کا مقصد نئے سرمایہ کاروں کو اپنے جال میں پھانسنا ہے ۔ پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر اور سیاسی تجزیہ نگار پرکاش پوار نے یہ بات بتائی کہ امیت شاہ کو انکاونٹرس کا ماہر قرار دیا جاتا ہے اور بی جے پی کی قیادت بھی ان کی اس انکاونٹرس کی صلاحیتوں کو پسند کرتی ہے ۔ امیت شاہ انتخابی مہم چلانے میں کامیاب ہوئے ہیںلیکن بی جے پی قیادت کیلئے ان کی صلاحیت پر شبہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آر ایس ایس بی جے پی نے پارٹی اور حکومت کے تمام امور مودی کے ہاتھوں سونپ دی ہیں۔ سینئر سوشلسٹ لیڈر بھاٹی ورما نے یہ بات بتائی اور کہا کہ امیت شاہ تو صرف ایک سایہ ہے اصل میں مودی ہی ہر چیز پر کنٹرول رکھتے ہیں ،وہ امیت شاہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے منصوبے روبل عمل لائیں گے ۔