امن کے ماحول میں ہی سب کی ترقی ممکن

مد ہول۔ 12مئی (تجمل احمد کی رپورٹ) بھینسہ کی عوام ایک دوسرے کے خلا ف حسد ، جلن ، بغض و عداوت جیسے دل کی بیماریوں کو چھوڑ کر بھائی چارگی رحم دلی جیسی اعلی صفات کا مظاہرہ کر یں تو یقینا بھینسہ ضلع عادل آباد میں ترقی کے اعتبار سے پہلا مقام ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار مسٹر آر گری دھر ڈی ایس پی بھینسہ نے تجمل احمد نمائندہ سیاست کو ڈی ایس پی آفس میں ایک انٹر یو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ آج شہر بھینسہ ریاست بھر میں حساس مقام کے نام سے جانا جا تا ہے اس شہر کی پہچان کو بدل کر دارالامن بنانے کیلئے ہندو مسلم کو ایک دوسرے کے مدد گار بنانا نا گزیر ہے جس کے بغیر ہندو مسلم کی تر قی کے علاوہ شہر کی ترقی کی بھی ممکن نہیں گزشتہ بیس سال میں سینکڑوں فسادات ہو ئے جس میں ہند و مسلم دونوں کو نقصان سے دوچار ہو نا پڑا اور شہر تر قی کے اعتبار سے کو سوں دور ہو گیا جس میں کئی معصوم لو گ ہلا ک ہو گئے ۔ واضح رہے کہ کل شہر بھینسہ میں امن پیغام کے نام سے آئو ہم سب مل کر ایک نیا بھینسہ بنائیں اور سب کیلئے ترقی کی راہیں ہموار کر یں ڈی ایس پی بھینسہ کی جانب سے پمفلٹس اُردو تلگو زبان میں تقسیم کئے گئے جس پر مسلمانوں کے ایک وفد نے ڈی ایس پی آفس پہنچ کر آر گری دھر ڈی ایس پی بھینسہ کی گلپو شی کر تے ہوئے نیک تمنائوں کااظہار کیا۔ پو لیس کی جا نب سے امن کے پیغام کے پمفلٹس کی ہر زاویہ سے ستا ئش کی گئی اردو پمفلٹس میں قرآن مجید کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ’’ اے ایمان والو! اللہ کے واسطے انصاف کی گو اہی دینے کیلئے کھڑے ہو جایا کر و اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو عدل کر و یہی بات تقویٰ سے بہت زیادہ نزدیک ہے اورڈرتے رہو اللہ سے جو کچھ تم کر تے ہواللہ کو خوب خبر ہے ‘‘ تلگو پمفلٹس میں گیتا سے اس طرح سے کچھ الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں طبقات کے لو گوں کو ڈی ایس پی بھینسہ نے امن کا پیغام دیا جس پر نمائند ہ سیاست نے مسٹر آر گری دھر ڈی ایس پی سے کچھ سوالات کئے ،امن کو عوام پسند کر تی ہے با وجود فسادات رونما ہو تے ہیں،اس کے اسباب کیا ہیں؟ جس پرا نہوں نے کہاکہ کچھ مفاد پرست لوگ عوام کو بھڑ کا کر گند ی سیا ست کر تے ہوئے فسادات کرواتے ہیں جب بھی فسادات ہو تے ہیں عوام کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ تا ہے مفاد پر ست افراد اپنی مفادات کی خاطر دونوں طبقات میں دوریاں پیدا کر تے ہیں لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور کچھ ہندو و مسلم افراد کی غلط فہمی کا نتیجہ بھی ہو تی ہیں جو لوگ فسادات کرواتے ہیں نہ یہ ہندو ہو تے ہیںاور نہ مسلمان ان کا کوئی مذہب نہیں ہو تا چو نکہ کوئی مذہب خون خرابہ کی اجازت نہیں دیتا بلکہ مقدس کتاب نے تو تمام انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی ہے

ہندوں اور مسلمانوں میں دو فیصد لوگ ہی ماحول کو پرا گندہ کر تے ہیں جب کہ تمام لوگ امن و امان کی اللہ سے دعا ئیں کرتے ہیں کیو نکہ فسادات میں نو جوانوں کے خلاف کاروائی ہو تی ہے جس سے ان کی زند گیاں اجڑ جاتی ہیں ،راقم الحروف نے ڈی ایس پی بھینسہ سے سوال کیا کہ جب بھی فسادات ہو تے ہیں تو پو لیس کی جا نب سے مسلم نو جوانوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے جس پر انہوں نے کہاکہ پو لیس کسی کی دشمن نہیں ہو تی بلکہ تمام لو گ پو لیس کی نظر میں پہلے انسان ہیں بعد میں انصاف ،پو لیس کا پیشہ ہے ،پو لیس کو حکو مت تمام انسانوں کی حفا ظت کیلئے نو کری دی ہے لیکن کچھ افراد پو لیس کے خلاف زہر گھولنے کی نا کام کو شش کر تے ہیں اگر یکطرفہ کاروائی کرتے ہیں تو پو لیس کسی ہندو کو گرفتار نہیں کر تی بلکہ کئی مندروں میں گند گیاں ڈالی گئی پو لیس تحقیقات کے بعد ملزم ہندو ہی نکلے ان کو گر فتار کیا گیا اور سزا دی گئی۔ اس طرح پو لیس بغیر بھید بھائو کے اپنی کاروائی کر تی ہے ہاں پو لیس ان نوجوانوں کے خلاف سخت کاروائی کر تی ہے جو لوگوں کو مشتعل کرتے ہیں یاکسی کے مذہب کے جذبات سے کھلواڑکر نے والوں کے خلاف پو لیس سخت کاروائی کر تی ہے انہوں نے مد ہول کے مسلمانوں کی ستا ئش کر تے ہوئے کہاکہ مد ہول کی جا مع مسجد میں خنزیز پھینکا گیا جس پر مد ہول کے مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظا ہرہ کر تے ہوئے پو لیس کو اپنی کا روائی کر نے دی جس کی وجہ سے اصل خاطی کو پو لیس گر فتار کرنے میں کا میا ب ہو گئی اس طرح کے واقعات پر پو لیس کاتعاون عوام کریں تویقینا ہم اصل ملزم کو کسی نہ کسی طرح پکڑ نے میں کا میا ب ہو سکتے ہیں اس طرح سے بھینسہ کی عوام بھی صبر کے ساتھ کام کر نے کی انہوں نے اپیل کی ،مدہول کے واقعہ کے ایک ماہ بعد پو لیس اصل ملزم تک پہنچنے میں کا میا ب ہوئی اسطرح پو لیس کاساتھ عوام صبر و سکون کے ساتھ دیں کوئی بھی ملزم پکڑا جانا مشکل نہیںہو تا چو نکہ آج کے دور میں ٹکنا لوجی کے استعمال سے بڑے بڑے ملزم پکڑ ے جاتے ہیں انہوں نے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ پہلا ہمارا دشمن کون ہے اس کو اچھی طرح سمجھیں ظا ہری اور با طنی دونوں چیزوں پر غور کرتے ہوئے ہم کو کام کرنا چا ہیئے معمولی معمولی جھگڑوں کو بڑھاوا نہ دیں اگر کہیں کسی مسلم کو کچھ ہندو نوجوان حملہ کر رہے ہیں تو اس کو ہندو لو گ حفا ظت کریں اور اس کو بچا ئیںاگر کوئی ہندو کو مسلمان مارہے ہیں تو اس کو مسلمان بچائیں اور مشتعل نوجوانوں کو روکیں اگر یہ کچھ غلطی کر تا ہے تو اس کو سزا پو لیس قانون عدالت دے گی گناہگار کو مار کر اپنے ہاتھ گندے نہ کریں اور افواہیں نہ پھیلائیں آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات بھی پولیس کو بتائیں اس طرح سے بھینسہ شہر میں امن قائم ہو سکتا ہے ہمیشہ مثبت سوچ سے نہ صرف امن کی فضاء کو بنائے رکھا جاسکتا ہے بلکہ شہر اور اپنے بچوںکو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے کسی بھی واقعہ اور لمحات کو فرقہ پر ستی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ نا خوشگوار حالات کو پہنچنے نہ دیںکچھ لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں ہوں گے کہ عوا م امن سے رہنے سے پو لیس کو کیا فائدہ ہو گا عوام امن سے رہے تو پو لیس بھی سکون کی زند گی گزار سکتی ہے پو لیس کبھی نہیں چا ہتی ہے کہ لڑائی جھگڑ ے ہوں ،فساد سے پولیس کو 24 گھنٹے کام میںمصروف رہنا پڑ تا ہے ،پو لیس عوام کی حفاظت کیلئے کام کرتی ہے اس لئے پولیس کسی بھی گناہ گار کو نہیں بخشتی۔