محبوب نگر۔/27اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عوام اپنے اپنے مذاہب کے تہواروں کو مل جل کر منائیں جس سے اخوت ، بھائی چارگی اور یکجہتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کلکٹر شریمتی پریہ درشنی نے گنیش تہوار کے آغاز سے قبل منعقدہ امن کمیٹی کے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و ضبط کی برقراری کیلئے ہندو مسلم اتحاد کا تعاون ناگزیر ہے۔ ہنواڑہ تالاب اور بیج پلی میں نمرجن کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ مورتیوں کا نمرجن ان دونوں مقامات پر ہی کیا جائے ۔ انہوں نے ہندو مسلم قائدین سے اس ضمن میں تجاویز طلب کیں۔ جس پر اقلیتی قائدین نے مطالبہ کیا کہ نمازوں کے وقت گنیش منڈپوں میں بجنے والے نغموں اور گیتوں کو بند کیا جائے۔ منڈپوں کے قریب پولیس کو چوکس رکھا جائے تاکہ امکانی شر انگیزی سے بچا جاسکے۔ مورتیوں کو وسرجن کیلئے جلوس کی شکل میں لے جاتے وقت مساجد سے 100میٹر کے فاصلے تک ساؤنڈ اور رقص نہ کریں۔ اس موقع پر صدر گنیش اتسو کمیٹی منوہر ریڈی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ گزشتہ 15برسوں سے محبوب نگر میں گنیش تہوار پورے امن و سکون کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
محبوب نگر کے عوام ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ اکثریتی قائدین نے کہا کہ محبوب نگر کی تقریباً سڑکیں تباہ ہیں جگہ جہ گہرے گڑھے ہیں جس سے گنیش مورتیوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ لہذا وسرجن سے قبل سڑکوں کی درستگی کی جائے۔ محکمہ الکٹریسٹی کے ارباب مجاز سے بھی گذارش کی گئی ہے کہ منڈپوں میں استعمال ہونے والی برقی کا بل وصول نہ کریں۔ اجلاس میں ضلع ایس پی ڈی ناگیندر کمار، مقامی ایم ایل اے وی سرینواس گوڑ، ڈی آر او رام کشن، ضلع کے بلدی کمشنران، ڈی ایس پیز، انسپکٹران پولیس کے علاوہ مسلم قائدین عبدالقادر، خالد زبیدی، محمد عبدالہادی، مظہر شہید، محمد حنیف، محمد ذکی، امتیاز، اسحاق، صمد خاں، مرزا قدوس بیگ، سراج الدین، ایم اے علیم، خواجہ حسین ( مقصود ) نورالحسن، سید سعادت اللہ حسینی، سبحانی پٹیل، سجو پہلوان اور دیگر موجود تھے۔